
مصری میڈیا کے مطابق مصر کے معروف قاری شیخ سلامه محمد محمد الریدی جعمرات گیارہ نومبر کو دنیا فانی سے کوچ کرگیے۔
انکو انکے آبائی گاوں میں سپردخاک کیا گیا جہاں اہم مذہبی اور دیگر حکام انکی تشیع جنازہ میں شریک تھے۔
شیخ سلامه ۱۹ اکتبر ۱۹۴۰ کو مصر کے صوبہ بنی سویف کے شهر اهناسیا میں پیدا ہوئے اور صرف تین مہینے کے تھے کہ انکے والد کا انتقال ہوا جس کے بعد ان کی والدہ نے انکی پرورش کی۔
بچپن میں انہوں نے شیخ تمام علی سعید کے مکتب سے قرآن سیکھا اور پھر استاد ابوالمجد العواونی کے ہاں قرآن حفظ کیا اور تلاوت بہ روایت حفص از عاصم پر عبور حاصل کیا اور پھر نجی محفلوں میں اچھی آواز کی وجہ سے انکی تلاوت کی دھوم مچ گیی اور جلد مصر میں انکو شہرت ملی۔
شیخ محمود خلیل الحصاری نے ایک محفل میں سلام الریدی میں تلاوت سنی تو ریڈیو کے لیے انکو بلایا تاہم امتحان لینے پر وہ کامیاب نہ ہوسکا۔
سلامه، نے دوبارہ سال ۱۹۹۸ میں دعا و مناجات کے لیے ریڈیو سے رابطہ کیا اور امتحان بہ آسانی پاس کیا اور پھر دعا سحر کی تلاوت مسجد صلاحالدین ایوبی سے پڑھنا شروع کیا۔
سلامه الریدی نے سال ۲۰۰۶ کو مکہ کا سفر کیا اور اہم شخصیت کی دعوت پر تین مہینے وہاں رہا اس دوران انہوں نے حج و عمرہ کی سعادت حاصل کی۔
ریڈیو مصر سے انکی پڑھی گئی کافی مناجات یا دعا موجود ہیں۔/