IQNA

10:47 - November 26, 2021
خبر کا کوڈ: 3510731
تہران ایکنا: درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی وقف اراضی کے سلسلہ میں حکومت کے وعدہ سے انحراف پر مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر داخلہ محمد محمود علی کو مساجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی ہدایت دی ۔

( سیاست نیوز) سکریٹریٹ کی مساجد کی تعمیرِ نو کے سلسلہ میں مسلمانوں کی جانب سے حکومت پر مسلسل دباؤ کا آخر کار اثر ہوا اور حکومت نے کل 25 نومبر کو دونوں مساجد کی تعمیرِ نو کیلئے سنگ بنیاد کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی، صدر نشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم اور رکن قانون ساز کونسل فاروق حسین نے سکریٹریٹ پہنچ کر مساجد کے مقام کا معائنہ کیا اور کل تقریب سنگ بنیاد کے سلسلہ میں عہدیداروں کو انتظامات کی ہدایت دی۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ 12 بجے دن سنگ بنیاد کی رسم ادا کریں گے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محمد محمود علی، وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور، صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم، ٹی آر ایس کے مسلم ارکان مقننہ فاروق حسین، عامر شکیل کے علاوہ مجلس کے عوامی نمائندے اور اقلیتی بہبود کے عہدیدار موجود رہیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی وقف اراضی کے سلسلہ میں حکومت کے وعدہ سے انحراف پر مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر داخلہ محمد محمود علی کو مساجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی ہدایت دی تاکہ ایک اہم مسئلہ پر مسلمانوں کو مطمئن کیا جاسکے۔ تقریب کے سادگی کے ساتھ انعقاد کا فیصلہ کیا گیا اور میڈیا کو بھی تقریب کے کوریج کی اجازت نہیں رہے گی۔ واضح رہے کہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے قدیم عمارتوں کے انہدام کے وقت دو مساجد کو شہید اور ایک مندر کو منہدم کردیا گیا تھا۔ گزشتہ سال جولائی میں مسجد دفاتر معتمدی اور مسجد ہاشمی راتوں رات شہید کردی گئیں۔ جس کے خلاف مسلمانوں نے مسلسل احتجاج کیا اور چیف منسٹر نے مسلمانوں سے معذرت خواہی کرتے ہوئے موجودہ مقامات پر مساجد کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا۔ سنگ بنیاد کے سلسلہ میں کئی بار تیقنات دیئے گئے اور 28 جنوری کو ریاستی وزراء نے مسلم نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں 26 فروری کی تاریخ کا اعلان کیا تھا لیکن عمل نہیں کیا جاسکا۔ مسلمانوں میں بڑھتی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی اجازت دے دی جبکہ وہ اپنی موجودگی میں مسجد، مندر اور چرچ کے تعمیری کاموں کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔ دونوں مساجد کیلئے 1500 گز اراضی مختص کی گئی ہے اور طئے شدہ ڈیزائن کے مطابق تعمیر پر 2.9 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ پہلے مرحلہ میں ایک کروڑ روپئے سے مساجد تعمیر کی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلہ میں وضو خانہ ، ٹائیلٹس اور امام کا کمرہ تعمیر کیا جائے گا۔ حکومت نے دونوں مساجد کو تعمیر کے بعد وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مساجد کے لئے جن مقامات کا تعین کیا گیا اگرچہ وہ سابقہ مساجد کی جگہ پر ہیں لیکن نئے تعمیر کئے جانے والے سکریٹریٹ کے احاطہ سے باہر رہیں گے۔ دونوں مساجد کا مین راستہ سڑک سے ہوگا جبکہ سکریٹریٹ کے مسلم ملازمین کیلئے ایک راستہ فراہم کیا جائے گا۔ مساجد کی تعمیر اندرون ایک سال مکمل کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ سکریٹریٹ کے افتتاح تک مساجد بھی عبادت کیلئے پوری طرح تیار رہیں۔ دونوں مساجد کے درمیان امام کی قیامگاہ تعمیر کی جائے گی۔ حکومت نے ایک نامور آرکیٹکٹ کے ذریعہ مسجد کا پلان تیار کرایا جو انتہائی خوبصورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مندر اور چرچ کے تعمیری کاموں کیلئے علحدہ طور پر تاریخ طئے کی جائے گی۔ اسی دوران اراضی کے دورہ کے بعد وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر اپنے وعدہ کے مطابق سکریٹریٹ کی تعمیر تک مساجد کی تعمیر مکمل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ کی نئی مساجد کا شمار ملک کی خوبصورت مساجد میں ہو گا۔ سکریٹریٹ میں چونکہ تعمیری کام جاری ہے لہذا تقریب سنگ بنیاد میں عوام کو شرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: