IQNA

8:09 - December 01, 2021
خبر کا کوڈ: 3510770
تہران(ایکنا) طارق عبدالباسط کا کہنا تھا کہ میرے والد کی مخصوص آواز تھی اور حتی غیرمسلم پر بھی انکی آواز کا خاص خوشگوار اثر ہوتا۔

الیوم السابع نیوز کے مطابق قاری عبدالباسط مرحوم کے فرزند طارق عبدالباسط عبدالصمد کا کہنا تھا:

میرے والد کی پرورش مصری شهر «ارمنت» میں ہوئی اور انہوں نے ۱۰ کی عمر میں قرآن حفظ کیا

اور چالیس کے عشرے میں وہ مسجد «سیده زینب» سے قرآن کی تلاوت شروع کی اور لوگ شدت شوق سے انہیں گردن پر سوار کرتے۔

 

ٹی وی چینل کے پروگرام «هذا الصباح» جو نیوز چینل «اکسٹرا نیوز» سے نشر ہوتا ہے اس سے گفتگو میں انکا کہنا تھا: ایسے مرد موجود ہیں جو قرآن کے لیے خالص نیت رکھتے ہیں اور انکی آواز جب تک خدا چاہے باقی رہتی ہے، میرے والد کی منفرد آواز تھی خدا نے انہیں خاص صلاحیت اور تلاوت کا حسن بخشا تھا اور جب دنیا کے گوشے گوشے میں لوگ انکی تلاوت سنتے ہیں انکے دلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 

طارق عبدالباسط کا کہنا تھا کہ غیرمسلم تک ان کی آواز سے متاثر ہوجاتے ہیں۔

 

عبدالباسط کے فرزند کا کہنا تھا: میرے والد شیخ محمد رفعت کی تلاوت سننے کے لیے پانچ کیلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے تاکہ ریڈیو سے انکی آواز سنے اور قرآء کو دیکھنے کا خاص شوق انکے دل میں تھا۔

 

قابل ذکر ہے کہ پیر تیس نومبر کو شیخ عبدالباسط کی برسی کا دن ہے جو دنیائے تلاوت کا باوا آدم سمجھا جاتا ہے انکو قرآء مصر الاینس کے پہلے سربراہ ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ انکو گولڈن وائس، ملکوتی آواز اور صوت مکہ کے عنوانات سے بھی نوازا گیا ہے۔

 

انکی پرانی تلاوت آیات ۱۵ و ۱۶ سوره فجر «فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ: جب انکے رب انکو آزماتا ہے اور گرامی جانتا ہے اور اسکو کثیر نعمت عطا کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے گرامی رکھا»، «وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ: اور جب انکو آزماتا ہے اور ان پر رزق کا دروازہ تنگ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے خوار کیا » اس عظیم قاری کی ایک تینتیسویں برسی پر  وائرل کی جارہی ہے:

4017505

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: