IQNA

8:17 - March 06, 2022
خبر کا کوڈ: 3511439
پشاور کی مسجد میں ہونے والے خود کش حملہ میں 56 افرادجاں بحق اور 200 کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔

صدر مملکت سے لے کر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈروں نے حملہ کی مذمت کی ہے اور ملک سے دہشت گردی کی بیخ کنی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ بیس برس کے دوران معصوم انسانوں پر ہونے والے سنگدلانہ اور انسانیت سوز حملوں پر سرکاری طور سے جتنے ’آنسو بہائے‘ گئے ہیں اگر اسی رفتار سے اس رجحان کو روکنے کی تدبیر کی جاتی تو شاید جمعہ کو قصہ خوانی بازار کی ایک مسجد آج انسانی خون سے لبریز نہ ہوتی۔

دہشت گردی کے اس قابل مذمت اور المناک سانحہ کے بارے میں دو باتیں نوٹ کرنا اہم ہے:

ایک: یہ حملہ ایک شیعہ مسجد پر کیا گیا ہے ۔ اس وقت اس مرکزی جامعہ مسجد میں چار پانچ سو لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جمع تھے کہ خود کش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہوکر زوردار دھماکہ کردیا۔ سانحہ میں کئی درجن افراد کی فوری ہلاکت سے دھماکے کی شدت اور اس میں استعمال کئے گئے بارودی مواد کی مقدار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دھماکہ میں موقع پر موجود ایک چوتھائی افراد کی ہلاکت سے بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس مقصدکے لئے کیسا خطرناک دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہوگا۔

دوئم: پولیس اور خیبر پختون خوا حکومت کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ اس سانحہ کے بارے میں کوئی پیشگی معلومات حاصل نہیں تھیں لیکن عمومی طور پر مساجد کی حفاظت کے لئے پولیس کے دو سپاہی تعینات کئے گئے تھے۔ بدقسمتی سے ان دونوں سپاہیوں کو حملہ آور نے مسجد میں داخل ہوکر دھماکہ کرنے سے پہلے ہی فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔ اس سے اس ’حفاظتی انتظام‘ کے ناقص اور بے معنی ہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

سنی اکثریت کے ملک میں کسی اقلیتی مسلک سے تعلق رکھنے والے نمازیوں پر خود کش حملے کا ایک مقصد تو ہلاکت و خوں ریزی کے ذریعے ریاست اور حکومت وقت کو چیلنج کرنا ہے ۔لیکن شیعہ مسجد میں دھماکہ سے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ دہشت گرد عناصر دراصل ملک میں مسلکی تفریق و منافرت کو گہرا کرکے انتشار اور بدامنی پیدا کرنے کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہتھکنڈا نیا نہیں ہے۔ متعدد مواقع پر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو دہشت گردی کے سنگین حملوں کا سامنا رہا ہے۔ بلوچستان میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو خاص طور سے ایسے حملوں میں اسی لئے ٹارگٹ کیا جاتا رہا ہے کہ ان کا تعلق فقہ جعفریہ کے ماننے والوں سے ہے۔ منافر ت کا یہ زہر معاشرے میں 80 کی دہائی سے پھیلایا جارہا ہے لیکن مملکت پاکستان پے در پے وعدے کرنے اور متعدد ایکشن پلان بنانے کے باوجود فرقہ پرستانہ جنونیت کا تدارک کرنے اور اقلیتی مسالک کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

وزیر اعظم عمران خان ملک میں مدینہ ریاست قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سنت نبوی کو مشعل راہ بتانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس حوالے سے انہوں نے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنانے کا اعلان بھی کررکھا ہے جو مدارس اور یونیورسٹیوں میں رسول پاک ﷺ کی تعلیمات سے طالب علموں کو آگاہ کرے گی تاکہ پاکستانی نوجوان اعلیٰ اخلاقی اقدار اختیار کرکے ایک صحت مند اور خوش حال معاشرہ کی تکمیل میں کردار ادا کرسکیں۔ اسی بنیاد پر وزیر اعظم مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے تعصبات کو اسلاموفوبیا کا نام دےکر ان کے خلاف کام کرنے کا عزم بھی ظاہر کرتے ہیں ۔ اور بھارت سے اگر مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہاپسندوں کی کسی کارروائی کی خبر آجائے تو اس کے خلاف تند و تیز بیانات سے شدت پسندی کے خلاف کام کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ تاہم یہی حکومت اپنے ملک میں مذہبی شدت پسندی کے خلاف ویسا ہی دو ٹوک اور شفاف مؤقف اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔

 شیعہ مسلک کے لوگ تو پھر بڑی تعداد میں آباد ہیں اور انہیں مسلمان فرقوں کا حصہ بھی مانا جاتا ہے۔ ان کے خلاف تشدد کی صورت حال کا اندازہ جمعہ کے خود کش حملہ سے کیاجاسکتا ہے۔ البتہ احمدیوں جیسے گروہ کو آئینی ترمیم کے ذریعے دائرہ اسلام سے ہی خارج کردیاگیا ہے۔ ان کے خلاف ہونے والے مظالم، سماجی تعصب، حملوں اور امتیازی سلوک کے بارے میں تو بات کرنا بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ احمدیوں پر حملوں کو جائز اسلامی رویہ کے طور پر عام کیا گیا ہے اور متعدد مذہبی رہنما اس گروہ کے خلاف تعصب و نفرت کا پرچار کرتے ہیں لیکن حکومت کبھی اپنے ہی ملک کے شہریوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ اسی طرح دیگر مذہبی اقلیتیں جن میں عیسائی، ہندو یا سکھ وغیرہ شامل ہیں، سنگین تعصب، سماجی دباؤ اور ظلم و زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں لیکن اس قسم کی کارروائیوں کے بارے میں کسی سرکاری ادارے کو مناسب اور مؤثر اقدام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کسی سانحہ میں زیادہ ہلاکتوں کے بعد ضرور گھڑے گھڑائے بیان جاری کئے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آتی۔

 

پشاور دھماکہ، افغانستان میں امن آچکا ہے پھر بھی یہاں قتل و غارت جاری کیوں

خیبر پختون خوا پولیس اور سیاسی قیادت نے اس کمزوری کا اعتراف کیا ہے کہ آج پشاورکے قصہ خوانی بازار میں ہونے والے حملہ کے بارے میں انہیں کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی تھیں۔ اتنا شدید دھماکہ کرنے اور اتنی بڑی تعداد میں دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ایک خود کش حملہ آور کو گنجان آباد محلے میں جانے کی سہولت فراہم کرنے میں ایک منظم اور ٹھوس نیٹ ورک درکار ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس دھماکہ کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل لاعلمی پریشان کن ہے۔ ملک دو دہائیوں سے دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں کا سامنا کررہا ہے اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو ’دنیا کی بہترین ایجنسیوں‘ کا اعزاز بھی دیا جاتا ہے۔ ایسا اعزاز لینے والی ایجنسیاں ایک سنگین اور ہلاکت خیز دہشت گردی حملہ کی روک تھام یا اس کی پیش از وقت معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

البتہ وزیر اعظم نے دھماکہ سے فوری بعد ایک ٹوئٹ میں یہ انکشاف کیا کہ ’میں خود متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر اس واقعہ کی تحقیقات کی نگرانی کررہا ہوں۔ ہمیں علم ہوگیا ہے کہ حملہ آور کہاں سے آئے تھے ۔ ہم پوری قوت سے ان کا پیچھا کریں گے‘ ۔ یعنی حملہ کی منصوبہ بندی اور خطرناک دھماکہ خیز مواد کی منتقلی یا خودد کش حملہ آور کی طویل تربیت کے عمل کے دوران تو ہماری ایجنسیوں کو کوئی خبر نہیں مل سکی لیکن اس حملہ کے فوری بعدہی وزیر اعظم کو یہ ضرور اطلاع دے دی گئی کہ منصوبہ بندی کرنے والوں کا علم ہوگیا ہے۔ زمینی حقیقت اور وزیر اعظم کے اعلان میں پایا جانے والا تضاد ملک میں انتہا پسندی ، دہشت گردی اور تشدد کے رجحانات کے قلع قمع کے حوالے سے اچھی خبر نہیں ہے۔

خیبر پختون خوا حکمت کی یہ اطلاع کہ حفاظت کے عمومی نقطہ نظر سے دھماکے کا نشانہ بننے والی مسجد کے علاوہ تمام مساجد کو سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اب یہ حقیقت بھی طشت از بام ہوگئی ہے کہ سیکورٹی کےنام پر پولیس کے دو سپاہیوں کو مسجد کے دروازے پر تعینات کیا گیا تھا۔ حملہ آور نے دھماکہ سے پہلے گولی مار کر ان دونوں کو شہید کیا۔ گویا ہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے باوجود ابھی تک پاکستان کی صوبائی یا وفاقی حکومتیں یہ انتظام کرنے میں کامیاب نہیں ہیں کہ جن پولیس افسروں کو حساس مقامات پر سیکورٹی کے لئے تعینات کیا جائے، انہیں اپنی حفاظت کا سامان بھی مہیا کیا جائے اور ایسی تربیت بھی دی جائے کہ وہ کسی حملہ کی صورت میں حملہ آور کو ناکارہ بنانے کی مؤثر تدبیر کرسکیں۔ نہتے یا مناسب حفاظتی ساز و سامان اور اسلحہ کے بغیر تعینات کئے گئے پولیس کانسٹیبلز کو دراصل محض نمائشی طور سے سیاسی بیان بازی کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ کسی سانحہ کی صورت میں یہ مظلوم اپنی جان کی قربانی دے کر حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ فیصلے کرنے کے مجاز اداروں یا قیادت میں کیا کوئی یہ سوچنے کی زحمت بھی کرے گا کہ ایسے سانحات میں حفاظت کے لئے متعین پولیس والوں کی ہلاکت سے پولیس فورس کے مورال و حوصلہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ کیا ان لوگوں کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ حکومت نے انہیں محض نمائشی طور پر کھڑا کیا ہے اور کسی سنگین وقوعہ پر انہیں سب سے پہلے اپنی جان بچانے کی فکر کرنی چاہئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس سانحہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئےپسماندگان سے تعزیت کی ہے۔ اور وزیر اعلی کے پی سے کہا ہے ہ وہ متاثرہ خاندانوں کے پاس ذاتی طور پر جائیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اسی طرح حکومت خیبر پختون خوا کے ترجمان نے پسماندگان کو خصوصی معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ کسی سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کے غمزدہ پسماندگان کو فوری طور سے مالی معاوضہ دینے کے اعلانات متاثرین کے دکھ میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ حکومت محض چند لاکھ روپے دے کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا چاہتی ہے۔ متاثرین کی مالی مدد ضرور ہونی چاہئے۔ یقیناً شہید ہونے والوں کے پسماندگان میں بہت سے مرنے والے عزیز کی کفالت کے محتاج بھی ہوں گے لیکن جرم کا سراغ لگانے کی بجائے مالی معاونت کے اعلانات کے ذریعے سیاسی کارگزاری کا طریقہ ایک افسوسناک روایت ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

کسی نے فوری طور سے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی لیکن وزیر اعظم سمیت تمام متعلقہ حکام کو ضرور اس بات کا ادراک ہوگا کہ کہ اس سفاکانہ دھماکہ میں کون لوگ ملوث ہیں۔ خاص طور سے وزیر اعظم کی طرف سے حملہ آوروں کو شناخت کرنے کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ حکومت کو خبر نہ ہو کہ حملہ کرنے والے کون لوگ ہیں اور وہ کہاں سے آئے تھے۔ افغانستان کی سرحد پر واقع شہر پشاور میں فرقہ پرستی کی بنیاد پر ہونے والی اس دہشت گردی میں ملوث عناصر ہمسایہ ملک سے ہی آئے ہوں گے۔

یہ انڈین ایجنسی پاکستان میں تحریک طالبان اور داعش کی سرپرستی کر رہی ہے، یہی لوگ فرقہ وارانہ دھماکوں میں بھی ملوث ہیں، مگر گذشتہ اگست سے افغانستان میں افغان طالبان برسر اقتدار ہیں اور اصولی طور پر ہم یہی سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے یہ اڈے اب بند ہوچکے ہونگے۔ اب تو پاکستان میں دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں میں کمی آنی چاہیئے، مگر اس کے الٹ دیکھا جا رہا ہے کہ جب سے افغان طالبان بر سر اقتدار آئے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے، جبکہ تحریک طالبان تو اب افغان طالبان کی مٹھی میں بند ہیں اور ان کے امیر کی بیعت میں ہیں، پھر یہ کیسے ممکن ہو رہا ہے کہ افغان طالبان کی مٹھی میں بند گروہ پاکستان کے امن کو تہ و بالا کرنے میں بھرپور حرکت میں ہے، اسے کھلا چھوڑا گیا ہے.

وزیر اعظم ، حکومت اور سیکورٹی معاملات سے نمٹنے والے اداروں کے لیڈروں کو سنجیدگی سے طے کرنا ہوگا کہ کیا طالبان کو مسلسل پاکستان کو نشانہ بنانے اور اس کے شہریوں کو ہلاک کرنے کا ’حق‘ دیا جاسکتا ہے۔ کیا طالبان حکومت کے لئے پاکستان کی سفارتی بھاگ دوڑ کا یہی بدلہ دیا جارہا ہے؟ سوچنا ہوگا کہ کیا طالبان کے طرز عمل پر خاموشی اور مفاہمانہ رویہ ہی مسئلہ کا حل ہے یا اب وقت آگیا ہے کہ کابل کو متنبہ کیا جائے کہ اب بہت ہوگیا۔ تشدد، تخریب کاری اور پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرنے کی مزید اجازت نہیں دی جاسکتی۔

وزیر اطلاعات نے پشاو حملہ کو ’سازش‘ قرار دیا ہے جس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ایسا طرز تکلم عام طور سے بھارت کی طرف انگلی اٹھانے کے لئے استعمال ہوتاہے۔ تمام داخلی کمزوریوں اور خارجہ پالیسی کی کوتاہیوں کا الزام بھارت پر عائد کرکے پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری پورا نہیں کرسکے گا.

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: