IQNA

خطا و گناه کی بخشش کی قیمت

8:59 - May 09, 2022
خبر کا کوڈ: 3511820
انسانی زندگی میں فریب و خطا کے متعدد دریچے ہیں تاکہ انسان کو فریب دیا جائے جس سے انسان کو ہدف تک پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

ایکنا نیوز- انسان ہمیشہ وسوسوں میں گھیرا رہتا ہے اور اسی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ ایسی غلطی کرے جس سے وہ راستہ سے ہٹ جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان غلطی کے بعد احساس کرکے پشیمان ہوتا ہے اور تلافی کی فکر کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان فطرتا پاک ہے اور اگر غلطی کرتا ہے تو دوبارہ درست راستے کی طرف لوٹنے کی فکر بھی کرتا ہے۔

 

خدا کی طرف لوٹنے کا راستہ ہمیشہ کھلا ہوتا ہے تاہم تمام انسان ہمیشہ توبہ میں کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ بعض اوقات انسان گناہ کے اثر سے غفلت اور خدا سے دوری میں گرفتار ہوتا ہے۔

اس راستے کی طرف لوٹنے کا نام توبہ ہے توبہ یعنی لوٹنا، خدا کی جانب واپس آنا اور یہ چیز گناہ کے ہر مرحلے میں موجود ہے تاہم جس قدر جلد توبہ کی جائے اسی قدر توبہ کرنا آسان ہوگا۔

 

تاہم ہر غلطی ماننے کو توبہ نہیں کہا جاسکتا ہے بلکہ توبہ کی شرائط اور مراحل ہیں جنمیں پہلی شرط انسان کو توبہ پر اصرار کرنا اور گناہ نہ کرنے کا عہد ہے۔

 

معروف مفسر محسن قرائتی درست توبہ کو درست ڈرائیونگ سے تشبیہ دیتا ہے کہ جیسے ہی ڈرائیور غلط سمت جانے کا احساس کرتا ہے فورا درست راستے کی جانب جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوبارہ غلطی نہ کرے۔

توبه، یعنی لوٹ جانا اور تلافی کرنا جیسے کہا گیا ہے: «انّ اللّه یقبل التوبة»(سوره توبه/ 104) اور توبہ کرنے والے کو اللہ دوست رکھتا ہے: «انّ اللّه یُحبّ التّوابین»(سوره بقره/ 222). تاہم ہونا یہ چاہیے کہ اگر کسی کو تکلیف دی ہے تو معذرت کرے، نماز ادا نہیں کی ہے تو قضا بجا لائے اور کاموں کی اصلاح کریں۔

قرآن توبہ کے ہمراہ یہ بھی کہتا ہے: «...واصلحوا...»(سوره بقره/ 160) یعنى توبه، کو اصلاح اور تلافی کے ساتھ ہونا چاہیے۔

توبه فوری کرنی چاہئے کیونکہ گناہ زیادہ ہوتو لوٹنا مشکل ہوگا ایسی ہی جس طرح سے اگر لباس پر معمولی گرد و غبار ہو توپھونک سے صاف ہوتا ہے مگر زیادہ گندا ہو تو پھونک سے صاف کرنا ممکن نہ ہوگا۔/

نام:
ایمیل:
* رایے:
* :