IQNA

معروف مصری قاری کی برسی پر؛
8:57 - May 10, 2022
خبر کا کوڈ: 3511827
تہران(ایکنا) مصری قاری شیخ محمد رفعت پہلا قاری ہے جس نے الازھر کی جانب سے ریڈیو پر تلاوت جایز قرار دینے کے بعد تلاوت کا اعزاز حاصل کیا۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے  مطابق مصری قاری محمد رفعت ۹ مئی ۱۸۸۲ کو قاهره میں پیدا ہوئے اور دو سال کا تھا جب  ایک بیماری کی وجہ سے انکی بینائی چلی گیی۔

 

محمد کو بچپین ہی سے قرآن کی تلاوت کا شوق تھا کیونکہ انکا ماحول قرآنی تھا تاہم بصارت سے محروم ہونے کی وجہ سے انکو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

 

پانچ سال کی عمر میں انکے والد نے انکو مسجد «فاضل باشا» میں حفظ کے لئے بھیجا جہاں انہوں نے دس سال کی عمر میں حفظ مکمل کیا جہاں اچھی آواز کی وجہ سے انکے استاد نے انکو قرآت یا تلاوت کی جانب مائل کیا۔

پندرہ سال کا تھا جب انکے والد دنیا سے رخصت ہوئے اور ان پر ذمہ داریاں بڑھ گیی، ابتدا میں وہ مسجد میں قاری کے عنوان سے متعین ہوا۔


سال ۱۹۳۴ میں ریڈیو «مصر» کا افتتاح ہوا اور شیخ محمد رفعت کو پہلے قاری کے طور پر تلاوت کی دعوت ملی

جہاں انہوں نے سورہ «فتح» کی تلاوت سے پہلی ریڈیو تلاوت کا اعزاز حاصل کیا۔

 

جنگ عظیم کا دور تھا اور اس موقع پربرلن، لندن اور پیرس ریڈیو پروگراموں میں بھی انکی تلاوت نشر کی جاتی رہی اور بہترین تلاوت اور اذان کی وجہ سے انکو" سردار موذن" کے عنوان سے یاد کیا جاتا تھا۔

 

«سيد اذان‌گويان» به شمار می‌رفت و تعداد زیادی از مردم بعد از شنيدن اذان شيخ محمد رفعت اسلام آوردند.
شيخ محمد رفعت باعزت زندگی کے قائل تھے اور بعض ریڈیو پر انہوں نے اس وجہ سے تلاوت سے انکار کیا کہ ان ریڈیو چینلوں سے موسیقی نشر کیا جاتا تھا۔

سانس لینے میں دشواری انکی اہم بیماری تھی اور آخر عمر میں اس کی وجہ سے تلاوت میں انکو مشکل پیش آتی تھی اور ایک بار مصری مسجد میں اس بیماری اور تلاوت میں رکاوٹ کی وجہ سے لوگوں کے آنسو نکل گیے کیونکہ کوشش کے باوجود وہ تلاوت نہ کرسکے اور مجبور تلاوت چھوڑ کر اسٹیج سے اتر آئے اور پھر انہوں نے تلاوت نہ کی۔

 

قاری محمد رفعت بلا آخر نو مئی ۱۹۵۰ اپنی پیدائش کے دن  ۶۸ کی عمر میں دار فانی سے کوچ کرگیے اور

۷۲ سال گزرنے کے بعد بھی آج انکو دنیائے تلاوت کا چمکتا ستارہ شمار کیا جاتا ہے۔/

4055238

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: