IQNA

20:08 - May 21, 2022
خبر کا کوڈ: 3511901
قدس ثقافتی ادارے کے زیراہتمام فلسطینی صحافی شہیدہ شیرین ابوعاقلہ کی یاد میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں مشہد مقدس کی خاتون صحافیوں اور فن وثقافت سے تعلق رکھنے والی دیگر خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

آستانہ قدس رضوی ویب سائٹ کے مطابق تعزیتی جلسہ قدس ثقافتی ادارے کے قدس کے ہال میں منعقد کیا گیا جس کی ابتداء میں محقق اور یونیورسٹی کے پروفیسر جناب ڈاکٹر محمد رضاقائمی  نے تقریر کرتے ہوئے اتحاد امت کی پر زور دیا اور کہا کہ میرے خیال میں قوموں کا اتحاد اس طرح نہیں ہے جیسا ان کے باہمی میل جول اور روزمرہ کی زندگی میں ہونا چاہئے۔ 
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر کو استعمار،سیکولیرزم اورسرمایہ داری کا سامنا ہے جو قوموں کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے،اگر مسلمان اور اسلامی مفکرین ان کا مقابلہ کرنے کے لئے بروقت کاروائی نہیں کریں گے تو اس کے نقصانات پورے عالم اسلام کو برداشت  کرنے پڑیں گے
انہوں نے فلسطین کے مسئلہ کو عالم اسلام کے پہلے مسئلے میں تبدیل ہونے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ  مسائل  کے آّپسی ربط  کو سمجھنے اور درک کرنے سے فلسطین کی پوزیشن واضح ہو جائے گی ۔ سرزمین فلسطین کا مسئلہ صرف گذشتہ پچاس سالوں سے نہیں ہے بلکہ  اس خطے پر تاریخی نزاع ہے ،یہاں تک کہ صیہونیت کا  مسئلہ، جو کہ یہودیت کی سیاسی تاریخ ہے وہ بھی سولہویں صدی سے جا ملتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات مسئلہ فلسطین جیسے حساس مسئلے کے سامنے ایک لہر چل پڑتی ہے لیکن بدقسمتی سے مسائل کے تسلسل اوران کے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے باقاعدہ جائزہ لینے پر مسلم اقوام غور نہیں کرتیں۔
فلسطینی مقاصد کے حصول میں دینی معرفت کی اہمیت
اسلامی کونسل حبل اللہ کے جنرل سیکرٹری حجت الاسلام مہدی محمد آبادی نے’’فلسطین کے مسئلہ پر دینی ذمہ داری‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہذیب کا تعلق و تعامل ابھی تک ہمارے عوام  میں رائج نہیں ہوا ، اور اسی طرح فلسطینی مقاصد کا حصول  اور غاصب صہیونی حکومت کی نابودی جو کہ اسلامی انقلاب کے مقاصد میں بھی ہیں لوگوں میں کم  دیکھے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات بیرونی دشمنوں اور تہذیب و تمدن کے حریفوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ان آیات میں طاغوت سے اجتناب اور ان میں  کفار و مشرکین سے زیادہ ،اہل کتاب کافروں یعنی قوم بنی اسرائیل سے اجتناب اور بچنے کی زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ یہ ایسی قوم ہے جو فقط اسلام کی دشمن نہیں بلکہ ہر دین کے ساتھ دشمنی رکھتی ہے۔ 
اس اسلامی اسکالر کا کہنا تھا کہ بقول امام خمینیؒ کے وہ خانقاہی عالم  جوامریکی اسلامی کے پرچار کرنے والے ہیں اورالہی دین کے برعکس  تحریف شدہ اسلام پیش کرتے ہیں ان علماء سے بچنا چاہئے۔۔
اسلامی جمہوریہ ایران مزاحمتی محور کا مرکز ہے
فردوسی یونیورسٹی میں ثقافتی امور میں فعال شام کے اسٹوڈنٹ عبد اللہ شیخ عبد اللہ نے مسئلہ فلسطین پر توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا میں ہم اس شہیدہ خاتون سے متعلق منحرف مسائل کا مشاہدہ کر رہے ہیں ہماری اصلی اور اہم مسئلہ قدس اور فلسطین ہے اگر فلسطین کا مسئلہ نہ ہوتا تو یہ صحافی خاتون بھی شہید نہ ہوتی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم عالم اسلام میں ایک مقدس ذمہ داری رکھتے ہیں اور ہماری جہادی حرکت کا آغاز قرآن کریم کی آیہ مبارکہ’’ وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ‘‘ ہے یعنی دشمنوں کے لئے تیار رہنا۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ پر پیدل مارچ کے علاوہ قدس کو پورا سال تسلسل کے ساتھ یاد نہیں رکھا جاتا،ایسا لگتا ہے جیسے مظاہرے فقط ایک رسم اور تقریب بن گئے ہیں اگرچہ ہم سب کے بہت سارے مسائل ہیں لیکن قدس کا مسئلہ اسلام اور مسلمانوں کا پہلا مسئلہ ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں اس شہیدہ کو عیسائی جانا گیا ہے اور سوشل میڈیا وغیرہ پر بہت ساری افواہیں ہیں کہ اگر ابوعاقلہ عیسائی ہیں تو انہیں شہید سمجھا جائے یا نہ؟عوام میں اس طرح کے انحرافات صہیونیوں کے اثر کو ظاہر کرتے ہیں۔
شیخ عبد اللہ نے مزید کہا کہ مزاحمتی اقوام کی اصلی مشکل امریکی حکومت ہے ان میں سے بعض اپنے آپ کو دشمن کے سامنے تسلیم کر چکے ہیں ،اسلامی جمہوریہ ایران استقامتی محاذ کا مرکز ہے اگر ہم ایٹمی معاہدے اور اس جیسے معاہدوں پر دشمن کے ساتھ سوداکرلیں گے تو مزاحمتی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ 
اسلامی مزاحمتی تحریک نے اب تک ہر مشکل کا سامنا کرتے ہوئے اپنے مشن کو جاری رکھا،فلسطین کے مسئلہ کو خودعوام اور ہمارے جوان اسے اصلی مسئلہ جانیں ۔ گذشتہ ادوار میں عرب ممالک فقط پتھروں سے دشمن کا مقابلہ کرتے تھے لیکن آج اسلامی جمہوریہ ایران جدید میزائلوں سے صہیونیوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔
عبد اللہ عبد اللہ نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج اگر عالمی میڈیا کہ شہ سرخیوں پر نظر ڈالی جائے تو دیکھتے ہیں کہ آدھی دنیا یوکرائن کی جنگ کی خبروں کی کوریج دے رہی ہے لیکن انہوں نے فلسطینیوں پر ہونے والے 74  سالہ ظلم و ستم پر اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ 
آج ہم فلسطین کی  مظلوم قوم پر ہونے والے ظلم و ستم کے سامنے عالمی میڈیا کی خاموشی کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ ان سالوں کے دوران، مزاحمتی کمانڈروں کو جسمانی طور پر ہراساں کرنے کے علاوہ ان کے خاندانوں  کو بھی ہراساں کیا گیا اور ان کے گھروں کو بھی تباہ کیا گیا۔ 
شامی طالب علم کا کہنا تھا کہا اگرچہ ہم ابوعاقلہ شیرین کو قریب سے نہیں جانتے تھے ،لیکن اس کی میڈیا پر چلائی گئی خبروں ،نیوز رپورٹس،نماز جماعت کی کوریج،بچوں کا صہیونیوں پر پتھراؤ کرنے کی ویڈیوز اور جب گھروں کو خراب کیا جا رہا تھا اسکی ویڈیو وغیرہ کی کوریج کو ہم سب نے دیکھا ہے۔
میڈیا کو عوام کی آواز ہونا چاہئے
فردوسی یونیورسٹی کے فلسطینی طالب علم محمد نوروس نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کو حکومتی عہدیداروں کی آواز بننے کی بجائے عوام کی آواز بننا چاہئے، انہوں نے شہیدہ ابوعاقلہ کے ایک مشہور جملہ بھی نقل کیا جس میں وہ کہتی ہیں کہ  ’’اگر میں حقیقت کو نہیں بدل سکتی ، لوگوں کی آواز کو تو دنیا تک پہنچا سکتی ہوں‘‘۔
انہوں نے ابوعاقلہ کی امریکی نیشنلیٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابوعاقلہ دنیا میں کسی بھی جگہ آرام سے زندگی گزار سکتی تھی لیکن انہوں  نے میڈیا جہاد کو انتخاب کیا اور اسی راہ میں شہید ہوئی۔
اس فلسطینی اسٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میڈیا کی مدد سے فلسطینی عوام کی مظلومیت اور حقیقت کو دنیا سے چھپا رہے ہیں لیکن  آج پوری دنیا فلسطینی قیام اور تحریک کی حقیقت سے آگاہ ہورہی ہے اورغاصب  اسرائیل کا مکروہ چہرہ دکھانا آپ میڈیا کے نمائندوں  کا کام ہے۔ 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: