غدیرقرآن میں؛ تفاسیر اهل سنت کی بازخوانی

IQNA

کتاب «غدیر در قرآن به روایت اهل سنت» سے گفتگو

غدیرقرآن میں؛ تفاسیر اهل سنت کی بازخوانی

6:28 - May 30, 2026
خبر کا کوڈ: 3520268
ایکنا: غیر شیعہ مصادر میں واقعۂ غدیر کا مطالعہ کیوں ایک علمی ضرورت ہے؟ اہلِ سنت کی کتب میں متواتر اسناد موجود ہونے کے باوجود غدیر کو شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافی نقطہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟

ایکنا نیوز- روایتی منابع سے غدیر کے حقائق کو علمی انداز میں کیسے اخذ کیا جاسکتا ہے؟ اور کیا غدیر دنیائے اسلام کے لیے "تمدنی وحدت کا محور" بن سکتا ہے؟ انہی سوالات کے جوابات کی تلاش میں ایکنا نے حجت الاسلام محمد یعقوب بشوی سے گفتگو کی ہے۔

ایکنا: آپ نے اپنی اس کتاب میں اہلِ سنت کے منابع پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ابتدا میں کتاب کے بارے میں مختصراً بتائیے۔

یہ کتاب ابتدا میں علمی حلقوں میں پیش کی گئی، جہاں موصول ہونے والے آثار میں اسے ایک ممتاز علمی کام قرار دیا گیا اور وزارتِ ارشاد کی سرپرستی بھی حاصل ہوئی۔ اب تک اس کا ترجمہ دنیا کی 23 زبانوں میں ہوچکا ہے، جن میں روسی (جو ماسکو میں شائع ہوئی)، سواحلی، اردو (پاکستان اور قم میں)، آذری، پرتگالی اور فارسی شامل ہیں۔

در حال تکمیل //مصاحبه با بشوی

 

ایکنا: اس عالمی پذیرائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ فکری حلقے غدیر اور ولایتِ امیرالمؤمنینؑ کے حوالے سے ان سوالات کے جواب تلاش کررہے ہیں۔

جی ہاں، یہی غدیرِ خم کی عظمت ہے جو اب بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہورہی ہے۔ غدیر ایک عالمی حقیقت ہے اور اسے دنیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ آج ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان مفاہیم کو عصرِ حاضر کی زبان میں بیان کریں۔ ہمیں غدیر کو صرف اختلافی مسئلہ بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک تمدنی حل کے طور پر انسانیت کو پیش کرنا چاہیے۔

جب یہ کتاب مختلف زبانوں میں شائع ہوتی ہے اور ماسکو، افریقہ یا یورپ کے قلب میں پذیرائی حاصل کرتی ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غدیر کا پیغام ایک عالمی زبان رکھتا ہے، جو مذہبی سرحدوں سے بالاتر ہوکر حق کے متلاشی انسانوں کی فطرت سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔

ایکنا: غدیر کے مباحث میں ایک اہم چیلنج لفظ "مولی" کی مختلف تفسیریں ہیں۔ آپ نے اہلِ سنت کے نصوص میں اس لفظ کے مفہوم کو کس طرح علمی انداز میں دیکھا تاکہ “تفسیر بالرائے” سے بچا جاسکے؟

در حال تکمیل //مصاحبه با بشوی

 

میں نے اس کتاب میں لسانی اور تاریخی زاویے سے عربی ثقافت میں لفظ “مولیٰ” کے تمام معانی کا جائزہ لیا ہے۔ بعض افراد کوشش کرتے ہیں کہ “مولیٰ” کو صرف محبت اور دوستی کے معنی میں محدود کردیں، لیکن اگر ہم علمی اور دیانتدارانہ انداز میں واقعۂ غدیر کا مطالعہ کریں تو یہ تفسیر تاریخی اور عقلی سیاق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

سوچیے! رسول اکرم ﷺ شدید گرمی میں، جحفہ کے میدان میں، ہزاروں افراد اور مختلف عرب قبائل کی موجودگی میں، ایک طویل اور دشوار سفر کے بعد لوگوں کو صرف اس لیے روکیں کہ فرمائیں: "جس کا میں دوست ہوں، علیؑ بھی اس کے دوست ہیں”؟

کیا آیۂ مبارکہ «بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ» جس میں سخت تاکید کی گئی کہ "اگر آپ نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گویا رسالت ادا نہیں کی”، صرف ایک اخلاقی نصیحت کے لیے نازل ہوئی تھی؟ یقیناً نہیں۔ اس لفظ کے اندر ایک گہرا سیاسی اور حقوقی مفہوم موجود ہے۔

یہاں "مولا" سے مراد “اولویت بر نفس” اور “صاحبِ اختیار” ہے۔ غدیر دراصل تسلسلِ ہدایت کا اعلان ہے، نہ کہ محض ایک شخصی تعلق یا جذباتی اظہار۔ رسالتِ نبوی ﷺ، پیغمبرؐ کے بعد رہنمائی کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی تھی۔ اگر غدیر نہ ہوتا تو دین ایک محدود اور وقتی حقیقت بن کر رہ جاتا، لیکن ولایت اس بات کی ضمانت ہے کہ دینِ خدا کا ایک محافظ موجود ہے جو پیغمبرؐ کے راستے کو اسی اقتدار کے ساتھ جاری رکھتا ہے۔

در حال تکمیل //مصاحبه با بشوی

 

جب ہم "مولا" کہتے ہیں تو اس سے مراد وہ ہستی ہوتی ہے جو "ولایتِ امر" کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔

ایکنا: عام طور پر غدیر کو شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف کا نقطہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے اس کتاب میں غدیر کو "اختلاف" کے بجائے "وحدت" کے محور کے طور پر کیسے پیش کیا ہے؟

میرا عقیدہ ہے کہ غدیر نقطۂ افتراق نہیں ہے؛ غدیر دراصل قرآنِ ناطق اور پیغامِ قرآن کی عملی تفسیر ہے۔ جو چیز وحی سے جڑی ہو، وہ تفرقے کا سبب کیسے بن سکتی ہے؟ اگر ہم غدیر کو صحیح انداز میں سمجھیں تو واضح ہوگا کہ غدیر نہ صرف وحدت کے خلاف نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی حقیقی وحدت کی مضبوط بنیادوں میں سے ایک ہے۔

کیونکہ حقیقی وحدت کسی الٰہی محور کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر امت کے پاس خدائی محور نہ ہو تو وہ تفرقے، متضاد تفسیروں اور لامتناہی اختلافات کا شکار ہوجاتی ہے۔

میں نے یہ کتاب اپنے اہلِ سنت بھائیوں کو بطور ہدیہ پیش کی، کیونکہ میرا یقین ہے کہ اگر غدیر کو علمی، قرآنی اور مستند انداز میں بیان کیا جائے تو یہ اختلاف پیدا کرنے کے بجائے علمی مکالمے، باہمی فہم اور مشترکات کی طرف واپسی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

غدیر صرف ایک تاریخی یا شخصی مسئلہ نہیں، بلکہ "امت سازی" کا مسئلہ ہے۔/

 

4354867

نظرات بینندگان
captcha