ایکنا نیوز- الکفیل نیوز چینل سے نقل کیا گیا کہ رکضۃ طویریج دنیا کے سب سے بڑے انسانی اجتماعات میں شمار ہوتی ہے، جو ہر سال عاشورائے محرم کی دوپہر کے وقت حضرت امام حسینؑ اور ان کے وفادار اہلِ بیتؑ و اصحابؓ کی شہادت کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔
عزاداریِ طویریج دراصل طویریج کے باشندوں کا سالانہ سوگ ہے، جس میں وہ اپنے شہر سے امام حسینؑ کے روضۂ مبارک تک عاشور کے دن پیدل سفر کرتے ہیں۔ یہ عزاداری عموماً نمازِ ظہر کے بعد ہرولہ (تیز قدمی) کی صورت میں انجام دی جاتی ہے۔
عزاداروں کے نعرے
عزادار راستے میں اور حرمِ امام حسینؑ و حرمِ حضرت ابوالفضل العباسؑ میں داخل ہوتے وقت درج ذیل پرسوز نعرے بلند کرتے ہیں:
وا حسینا!
لبیک یا حسینؑ!
یا لثارات الحسین!
لبیک یا داعی اللہ!
ابد واللہ ما ننسیٰ حسینا (خدا کی قسم ہم امام حسینؑ کو کبھی فراموش نہیں کریں گے)
یا عباسؑ جِب الماء لسکینہ (اے عباسؑ! سکینہؑ کے لیے پانی لائیے)
الیوم الیوم نعزی فاطمہ (آج ہم حضرت فاطمہ زہراؑ کو پرسہ پیش کرتے ہیں)
واویلا علی العباسؑ!
رکضۃ طویریج کی تاریخ
بعض تاریخی مصادر کے مطابق طویریج کے جلوس اور ہرولہ کی صورت میں اس عزاداری کی بنیاد سید صالح قزوینی نے رکھی۔ وہ محرم کے ابتدائی عشرے میں اپنے گھر کو عزاداریِ امام حسینؑ کا مرکز بناتے تھے۔
عاشور کی صبح سید صالح قزوینی، سید ابن طاؤوس کی کتاب مقتل پڑھتے تھے، جس میں دسیوں ہزار افراد شریک ہوتے۔ بعد ازاں لوگ ناشتہ کرنے کے بعد پیدل کربلا کی جانب روانہ ہوتے۔ جب یہ قافلہ باب الطویریج (کربلا کے داخلی دروازوں میں سے ایک) پہنچتا تو نمازِ ظہر ادا کرتا اور پھر ہرولہ کرتے ہوئے حرمِ امام حسینؑ اور حرمِ حضرت عباسؑ کی جانب بڑھتا۔
شہادتِ امام حسینؑ کے وقت، یعنی ظہر کے کچھ دیر بعد، زائرین کربلا میں داخل ہوتے تھے جبکہ سید صالح قزوینی گھوڑے پر سوار ہو کر ہزاروں عزاداروں کے درمیان حرکت کرتے تھے۔ 1304 ہجری قمری میں ان کی وفات کے بعد ان کے فرزندان اور خاندان کے افراد اس روایت کی قیادت کرتے رہے۔ چودھویں صدی ہجری کے آخری عشروں تک موکبِ طویریج کی سرپرستی سید صالح کی نسل کے افراد انجام دیتے رہے۔
تین سو سال سے زائد قدیم روایت
سید صالح شهرستانی (متوفی 1395ھ ق) نے اپنی کتاب تاریخ النیاحہ میں لکھا ہے کہ طویریج کی یہ ہرولہ تین صدیوں سے بھی زیادہ قدیم روایت ہے۔ اس میں شریک عزاداروں کا عقیدہ ہے کہ وہ اس عمل کے ذریعے سن 61 ہجری کے عاشور کے دن قبیلہ بنی اسد کی اس تاریخی حرکت کی علامتی یاد تازہ کرتے ہیں، جب وہ امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی نصرت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔/
.
ویڈیو:
4360464