ایکنا: غزہ نامی مدرسہ الجزائر کے صوبہ قسنطینہ کے علاقے حامہ بوزیان میں گزشتہ 24 برس سے قرآن کریم کی تعلیم اور حفظ قرآن کو آسان بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
ایکنا نیوز- النصر نیوز کے مطابق الجزائر میں ہر موسم گرما میں سینکڑوں والدین سڑکوں کے شور اور الیکٹرانک اسکرینوں کی کشش سے دور اپنے بچوں کو قرآنی مدارس میں داخل کراتے ہیں۔ ان والدین کا ماننا ہے کہ یہ ادارے بچوں کے فارغ اوقات کو مفید بنانے اور دینی و اخلاقی اقدار کو ان کی شخصیت کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ان اداروں میں الجزائر کے صوبہ قسنطینہ کے علاقے حامہ بوزیان میں قائم مدرسہ قرآنی ’’غزہ‘‘ نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ مدرسہ گزشتہ 24 برس سے قرآن کریم کی تعلیم اور حفظ کو آسان بنانے کے لیے وقف ہے اور علم و تربیت کا ایسا مرکز بن چکا ہے جہاں سے سینکڑوں مرد و خواتین حافظانِ قرآن تیار ہو چکے ہیں۔

مسجد کے قلب میں قائم مدرسہ
اس مدرسے کی تاریخ اس مقام کی تاریخ سے گہرا تعلق رکھتی ہے جہاں یہ قائم ہے۔ یہ مدرسہ قدیم مسجد الحسینین کے کھنڈرات پر تعمیر کیا گیا ہے۔ فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں اس مقام کو تشدد اور اذیت رسانی کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، تاہم الجزائر کی آزادی کے بعد اسے دوبارہ ایک دینی مرکز کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

1986ء میں نئی مسجد الحسینین کی تعمیر کے بعد نوجوان نسل کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے ایک مستقل قرآنی مدرسہ قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی، تاکہ مستقبل میں اس کے ذریعے مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ مدرسے کے افتتاح کے بعد اس نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔
مدرسہ قرآنی ’’غزہ‘‘ نے اپنے قیام کے بعد سے حامہ بوزیان کے علاوہ صوبہ قسنطینہ کے مختلف علاقوں سے بھی قرآن سیکھنے والے طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔

قرآن کے ذریعے فارغ اوقات کا مفید استعمال
مدرسے کے سربراہ محمد طاہر مراد نے کہا کہ یہ ادارہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے اپنی تعلیمی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ مدرسہ محض قرآن کریم حفظ کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ایسی نسلوں کی تربیت کے لیے وقف ادارہ ہے جو اخلاق اور اسلامی اقدار پر مبنی ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ مدرسہ مختلف عمر کے طلبہ کا استقبال کرتا ہے اور ہر قرآن سیکھنے والے کی صلاحیت کے مطابق خصوصی تعلیمی پروگرام پیش کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مدرسہ پورے ہفتے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے، تاہم موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اس کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
قرآن حفظ کرنے کی خصوصی کلاسوں میں قرآنی حلقے منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں بچے اساتذہ کی مسلسل نگرانی میں قرآن کریم کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کی آوازوں سے کلاسوں میں ایک خاص روحانی اور تعلیمی ماحول پیدا ہوتا ہے۔
خواندگی کا خصوصی پروگرام
مدرسے کی ایک خاتون معلمہ سماح دوادی نے النصر کو بتایا کہ یہ ادارہ اپنی سرگرمیوں کو صرف بچوں کی تعلیم تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ بالغ افراد، جن میں ہائی اسکول کے طلبہ، یونیورسٹی کے طالب علم، گھریلو خواتین اور مائیں بھی شامل ہیں، کو بھی قرآن کریم کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، جس کے ذریعے شرکا کو قرآن کریم کے منتخب حصے حفظ کرائے جاتے ہیں، جبکہ خواندگی کے کورسز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

150 سے زائد خواتین حافظات کی تربیت
مدرسے کے سربراہ محمد طاہر مراد نے کہا کہ مدرسے کے قیام سے اب تک یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والی خواتین حافظاتِ قرآن کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔/
4369225