IQNA

14:41 - February 27, 2018
خبر کا کوڈ: 3504261
بین الاقوامی گروپ:تنقید کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی بھی نقد رقم کی ٹرانزیکشن میں ملوث نہیں بلکہ انہوں نے صرف مدرسے کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے میں مدد کی۔

ایکنا نیوز-ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے درمیان ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات فواد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ مدرسے کا انفرا اسٹرکچر صوبائی مواصلات اور ترقیاتی محکمے کے تحت بنایا جارہا ہے لیکن دارالعلوم حقانیہ کو براہ راست کوئی فنڈز نہیں دیئے گئے۔

فواد چوہدری کی جانب سے سیاسی اور کچھ میڈیا حلقوں کی جانب سے تنقید کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز مدرسوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے سے متعلق پالیسی کے تحت جاری کیے گئے تھے اور اس کا مقصد مذہبی سیمینارز کے لیے مدد فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی دارالعلوم حقانیہ کے تحت چلنے والے مدارس میں 27 کروڑ روپے خرچ کرکے مختلف عمارتیں اور کمپیوٹرز لیب تعمیر کیے گئے۔

خیال رہے کہ دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ مولانا سمیع الحق ہیں اور وہ جمعیت علماء اسلام کے ایگ گروپ کے سربراہ بھی ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات نے بتایا کہ دارالعلوم حقانیہ نیا کمپلیکس بنانا چاہتا ہے اور اس کے لیے انہوں نے 30 کروڑ روپے کا اضافی مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تمام مدارس کو یہ پیش کش کی گئی تھی کہ مالی امداد کے لیے وہ انتظامی نظام اور الیمنٹری سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے تحت بنائے گئے نصاب کو اپنائیں، تاہم دارالعلوم حقانیہ وہ پہلا مدرسہ تھا جس نے اس پیش کش کو قبول کیا۔

اس سے قبل جاری ہونے والے پارٹی کے اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو مدارس کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا، ساتھ ہی درالعلوم حقانیہ کو جاری کیے گئے فنڈز کے بارے میں آگاہ کیا۔

اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ 25 لاکھ سے زائد بچے اس وقت مختلف مدارس میں پڑھ رہے ہیں اور ان کی مدد اور فنڈز مدارس کے طالبعلموں کو معاشرے میں ہم آہنگ کریں گے اور انہیں مرکزی دھارے میں لائیں گے۔

انہوں نے صوبائی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ترقیاتی اصلاحات پر عمل درآمد کرایا گیا تاکہ مدرسے کے طالبعلموں کو مرکزی دھارے میں شامل کیا جاسکے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: