IQNA

9:25 - April 27, 2018
خبر کا کوڈ: 3504494
بین الاقوامی گروپ – ترک حافظ قرآن«اکرم اوچار» چودہ سال کی عمر میں بصارت سے محروم ہوا تھا، قرآن سے لگاو سرمایہ حیات ہے

مقابلوں میں دوم آنے والے حافظ ایکنا سے:۱۶ مہینے میں قرآن حفظ کرلیا تھا

ایکنا نیوز سے گفتگو میں چوبیس سالہ ترک حافظ قرآن اکرم اوچار ترک شہر «آکسارای» میں رہتے ہیں اور انہوں تہران بین الاقوامی مقابلوں میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

 

حافظ قرآن کی گفتگو کا خلاصہ پیش خدمت ہے

 

قرآن کے حفظ پر کام کب شروع کیا؟

چودہ سال کی عمر میں آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہوا اور پھر آنکھوں کی بصارت سے محروم ہوا ،مگر جب ۱۵ سال کی عمر میں قرآن پر کام شروع کیا تو زندگی بدل گیی۔

 

کتنے وقت میں حفظ کیا ؟

میں نے سولہ مہینے میں قرآن حفظ کرلیا مگر اعتراف کرنا پڑے گا کہ میرے استاد «احمد سارما» نے خصوصی تعاون کیا ۔

 

بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کی اہمیت کے بارے میں کیا فرمائیں گے؟

قرآنی مقابلوں کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس میں دنیا کے مختلف ممالک کے قراء اور حفاظ کرام تشریف لاتے ہیں اور ایک اچھا موقع فراہم ہوتا ہے کہ طلباء عالم اسلام کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں اور ایک دوسرے کے تجربوں سے فایدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

 

ایران میں بصارت سے محروم افراد کے مقابلوں کے حوالے سے کیا خیال ہے؟        

نابینا افراد کے مقابلوں سے پیغام ملتا ہے کہ قرآن سے انس کی راہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں ، اور جہاں تک مجھے معلوم ہے اس سطح پر نابیناوں کے لیے دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا مقابلہ نہیں ہوتا ۔

 

آپکا کوئی اور مشغلہ بھی ہے؟

ترکی کی مسجد میں موذن ہو اور بچوں کو قرآن پڑھاتا ہوں ۔

 

زندگی میں کوئی اہم واقعہ؟

جس زمانے میں قرآن حفظ کررہا تھا ایک دن میں حفظ کے بعد سوگیا تھا جبکہ میرے ایک دوست میرے قریب بیھٹا تھا اس کا کہنا تھا کہ میں نیند میں بھی قرآن کی تلاوت کررہا تھا اور اس پر میرا استاد بہت خوش ہوا تھا۔

 

کوئی اہم خواہش؟

میری آرزو ہے کہ تمام مسلمان قرآن پڑھیں ، اسکے معانی پر غور کریں اور متحد ہوجائیں۔/

3709161

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: