IQNA

9:58 - April 28, 2019
خبر کا کوڈ: 3506045
بین الاقوامی گروپ- نائجیریا کے نابینا قاری کے مطابق قرآنی مقابلہ حوصلہ افزائی کے علاوہ تدبر قرآن میں بھی مدد گار ہوتا ہے۔

ایکنا نیوز سے گفتگو میں پینتیس سالہ قاری«محمد عبدالله صادق» نے مزید کہا :

 

تلاوت کی کیسٹیں سن کر میں نے قرآن مجید حفظ کیا ہے ۔

انکا کہنا تھا کہ نائجیریا میں میں روایتی قرآنی مراکز موجود ہیں تاہم وہ کیسٹیں سن کر حافظ بن چکا ہے البتہ مدرسوں کا ماحول بھی انکے لئے مدد گار رہا۔

 

 

قرآنی آرزو

 

میری خواہش ہے کہ تمام مسلمان قرآن کو اہمیت دیں اور سب مسلمان حافظ قرآن بنیں۔

 

قرآنی شخصیات میں کونسی خصوصیات ہونی چاہیے تاکہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ بن سکیں؟

 

اہل قرآن کو ہر روز قرآن کی تلاوت کرنی چاہیے اور قرآنی دستورات پر عمل کریں اور انکو سچا، باکردار، خوش اخلاق اور نیک نام ہونا چاہیے تاکہ وہ دوسروں کے لیے مثال بن سکیں۔

 

کس معروف قاری کی تقلید کرتے ہیں؟

 

میں معروف قراء جیسے خلیل حصری، محمدصدیق منشاوی، محمد ایوب اور عبدالباسط عبدالصمد کی پیروی کرتا ہوں۔

 

نایجیریا میں قرآنی سرگرمیوں کے حوالے سے انکا کہنا تھا: نایجیریا میں مقامی سطح پر قرآنی سرگرمیاں اور قرآنی مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں تاہم بین الاقوامی مقابلہ وہاں نہیں ہوتا۔

 

انکا کہنا تھا کہ وہ روزانہ ایک سے دوگھنٹے قرآن کے لیے وقت نکال لیتا ہے۔

نائجیرین حافظ:قرآنی مقابلہ تدبر قرآن کا مقدمہ ہے

اہل قرآن اور وحدت اسلامی

 

انکا کہنا تھا کہ اہل قرآن کو وحدت میں پیش قدمی کرنا چاہیے کیونکہ وہ قرآن دستورات سے بہتر طور پر آگاہ ہوتے ہیں۔

 

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ نایجیریا میں روایت «حفص از عاصم» اور «ورش از نافع» رائج ہے۔

 

موجودہ سرگرمی

 

انکا کہنا تھا کہ وہ " نیامی" شہر کے  مدرسه «الحیاة الاسلامیة» میں استاد کے طور پر مصروف عمل ہے جہاں چھ سال کے بچوں کو داخل کرایا جاتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ وہ مدرسے میں قرآت اور تجوید کی درستگی پر اس وقت کام کررہا ہے/

 

انکا کہنا تھا کہ  مدرسه «الحیاة الاسلامیة» میں حفظ کے بعد بچوں کو مستند سرٹیفیکٹ دی جاتی ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ نایجیریا میں عوام مالی حوالے سے مشکلات کے باوجود حفظ و تلاوت قرآن کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔

 

 

ایران کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ نایجیریا میں لوگ ایران کو ایک دوست ملک کی حیثت سے دیکھتے ہیں اور انکے مقابلوں میں انکی شرکت اس بات پر دلیل ہے۔

 

قرآن فھمی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اس طرح کے مقابلوں سے درک قرآن میں مدد ملتی ہے ۔

 انہوں نے ایران کے مقابلوں میں شرکت کو پہلی بار بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت قرار دیا۔

 

نابیناوں کے مقابلے کے حوالے سے انکا کہنا تھا:

 

میں نے پہلی بار سنا ہے کہ کسی ملک نے بصارت سے محروم افراد کے لیے الگ مقابلہ منعقد کیا ہے اور یہ قابل خوشی ہے۔

 

انہوں نے ایرانی مقابلوں کے معیار کے حوالے سے کہا کہ بیک وقت خواتین، طلبا، نابینا اور عام افراد کے لیے الگ مقابلے قابل تعریف ہیں۔/

3806666

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: