IQNA

7:28 - March 25, 2020
خبر کا کوڈ: 3507419
تہران( ایکنا) امریکی پابندیوں سے مالی ٹرانزیکشن میں مشکلات موجود ہیں اور ان حالات میں میڈیکل سازوسامان کی درآمد ناممکن ہے۔

نیویارک ٹایمز میں جان ھاپکنز یونیورسٹی کے بین الاقوامی اسٹڈی سنٹر کے استاد نرگس باجغلی نے امریکی پابندیوں کا جائزہ لیا ہے۔

 

اخبار لکھتا ہے کہ  ۸ ساله ایران و عراق جنگ جو ۱۹۸۰ میں ہوئی اس میں دس لاکھ لوگ مارے گئے مگر کرونا کے مقابلے میں وہ جنگ غیر اہم ہے۔

ایرانی ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس بیماری سے پہلے ہی کافی ہلاکتیں ہوچکی ہیں تاہم مئی میں اسکی شدت بڑھ سکتی ہے اور اس سے ساڑھے تین ملین افراد ہلاک ہوسکتے ہیں، ماہرین نے تاکید کی ہے کہ اکثر لوگ گھروں میں رہیں تاہم طولانی مدت اور کم آمدنی کی وجہ سے وہ تباہ ہوسکتے ہیں جبکہ میڈِیکل سازوسامان میں کمی بھی مشکلات بڑھا سکتی ہے۔

 

اخبار کے مطابق اگر ایران اس پر کنٹرول حاصل نہ کرسکا تو اسکے وحشتناک سایے ایران کے ہمسایے اور حتی دور کے ممالک کو بھی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

نیویورک‌ٹایمز: امریکی پابندیاں ایران کے لیے ادویات کی فراہمی میں اہم رکاوٹ قرار

اخبار کے مطابق ، چین  اور روس سمیت کئی دیگر ممالک امریکی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کرچکے ہیں لیکن ٹرمپ حکومت لاپرواہ دکھائی دے رہی ہے بلکہ حال ہی میں مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

 

اخبار کے مطابق بہت سے ممالک نے میڈیکل وسائل کی برآمد بھی ایران کو روک دیا ہے کیونکہ ان کو مالی ادائیگی میں بینکوں پر عائد پابندیوں کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ امریکہ جو انسانی حقوق کا دم بھرتا ہے انکو پابندیاں ختم کرنا ہوگا ورنہ ایران  عوام کی جانوں کا شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

 

اخبار کے مطابق ایران عراق جنگ کے بہت سے متاثرین کو وینٹی لیڑ اور دیگر ساز وسامان کی ضرورت ہے جنکی درآمد کے لیے ایران پر سے پابندیاں ہٹانا ہوگا۔

 

چین نے کرونا پھیلاو کے بعد سے ایران کو میڈیکل سازوسامان کی فراہم شروع کردی اور انہوں نے رسمی طور پر امریکہ سے بھی میڈیکل وسائل کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

اخبار لکھتا ہے کہ اگر ٹرمپ اسی طرح سے ایران کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا تو اس کے بدترین اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں اور ایرانی عوام امریکی رویے کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔/

3887167

 

نام:
ایمیل:
* رایے: