IQNA

11:33 - April 10, 2020
خبر کا کوڈ: 3507485
تہران(ایکنا) نو منتخب وزیراعظم مصطفی الکاظمی کو ایک مہینے کے دوران کابینہ تشکیل دینے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

نو منتخب عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے ٹوئٹ کیا ہے: منتخب ہونے کے بعد میرا عراقی عوام سے وعدہ ہے کہ ایسی کابینہ کی تشکیل دینے کی کوشش کرونگا جو عوامی رائے کے مطابق ہو۔

 

الکاظمی کا کہنا تھا کہ کابینہ جو ملکی سالمیت ، مفادات اور اقتصادی مشکلات کے حل کے لئے کام کریں۔

 

انکا ٹوئٹ عربی، انگریزی اور فارسی میں لکھا ہوا ہے۔

 

الکاظمی کے انتخاب پر رد عمل

صدر تحریک کے «حاکم الزملی» نے مصطفی الکاظمی کے انتخاب پر کہا ہے کہ صدر تحریک اس انتخاب کی حمایت کرتی ہے۔

 

انکا کہنا تھا: اگر الکاظمی کابینہ میں درست افراد کو پیش کرتا ہے تو ہم مکمل حمایت کریں گے اور غیر صالح انتخاب پر تنقید بھی کرسکتے ہیں۔

 

قیس الخزعلی، تحریک عصائب اهل الحق رہنما کے اس حوالے سے کہنا تھا: صدر کی جانب سے غیرقانونی اقدام سے ایک مہینہ ضائع ہوا۔

 

انکا کہنا تھا کہ شیعہ تنظیموں کا اس حوالے سے اتفاق ہے گرچہ شاید تمام سیاسی حوالے سے وحدت رائے نہ ہو اور ہم واضح کریں کہ امریکی انخلاء پر ہمارا اصرار برقرار ہے۔

 

کردستان صوبے کے وزیراعظم «مسرور بارزانی» نے مصطفی الکاظمی سے ٹیلفون پر رابطہ کیا اور کردستان مسائلل کے حوالے سے بات چیت کی اور انکے انتخاب پر حمایت کا اعلان کیا.

 

الفتع الائنس کے «هادی العامری» نے بھی مصطفی الکاظمی کے انتخاب پر حمایت کا اعلان کیا ہے۔

 

النصر نے بھی بیرونی مداخلت کے بغیر کابینہ کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے اور

 

عدنان الزرفی کی دست برداری کو بھی درست اور بروقت قرار دیا۔

 

الائنس نے اس امید کا اظھار کیا ہے کہ مصطفی الکاظمی کابینہ کے تشکیل کے کامیاب ہوجائیں گے۔

 

اقوام متحدہ کے عراق میں نمایندہ ٹیم نے بھی مصطفی الکاظمی کے انتخاب پر خوشی کا اظھار کیا ہے۔

 

ٹیم کا کہنا ہے کہ اس وقت بحران کے حل کے لیے ایک متفقہ نمایندے کا انتخاب لازم تھا۔

 

عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر بشیر الحداد، نے مصطفی الکاظمی کے انتخاب کو بہتر انتخاب قرار دیا ہے۔

 

الحداد نے اس امید کا اظھار کیا ہے کہ موجود انتخاب کابنینہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوں گے۔

 

سایرون الاینس کے «برهان المعموری» نے اس انتخاب پر کہا ہے کہ امید ہے وہ کابینہ کو دباو کے بغیر تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

 

انکا کہنا تھا:  الکاظمی کو  شیعہ، کرد اور اهل سنت کی حمایت حاصل ہے۔/

3890448

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: