IQNA

8:17 - June 30, 2020
خبر کا کوڈ: 3507839
تہران(ایکنا) سعودی الائنس حملوں نے یمنی بچوں کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور بم باری کے علاوہ حملوں کے نتیجے میں قحط اور بھوک سے بھی یہ بچے مظلومانہ انداز میں جان بحق ہورہے ہیں۔

یمنی بچوں کی مظلومیت کے ادراک کے لیے کافی ہے کہ آپ اقوام متحدہ کی آخری رپورٹ کو ملاحظہ کریں ۔ رپورٹ کے مطابق  هر ۱۰ دس منٹ میں خوراک کی کمی کے باعث ایک یمنی بچہ جان سے ہاتھ دھو بیھٹتا ہے اور هر ۱۰ بچوں میں سے دس کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

 

یمنی وزارت صحت کے مطابق ۵۴ لاکھ یمنی بچوں کو خوراک کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے اور اکیس لاکھ بچوں کی عمر پانچ سال سے کم ہے

 ۳۰ فیصد بچوں کو علاج کے لیے سفر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ درجنوں بچے علاج کی سہولیات کے فقدان سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

۷۵۱۶ یمنی بچے بم باری سے ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں اور دو ملین بچے حملوں کی وجہ سے اسکول جانے سے محروم ہیں۔

 

اس سنسنی خیز رپورٹ کے ہر دوگھنٹے میں چھ یمنی بچے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے مررہے ہیں اور ہر ایک ہزار بچوں میں سے ۶۵ فیصد مختلف بیماریوں کا شکار ہے۔ یہ رپورٹ حملوں کے پانچ سال مکمل ہونے پر جاری ہوئی ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق واضح ہے کہ نہ صرف بم باری بلکہ اس کے نتیجے میں خوراک کی کمی اور بنیاد سہولیات کی عدم فراہمی بھی بچوں کی جان کی دشمن بنی ہوئی ہے۔.

 

اس ویڈیو فلم میں یمنی بچوں کی مظلومیت کی داستاں رقم ہے جسمیں بم باری اور بھوک سے یمنی بچوں کو زندگی کو خطرات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔/

3907507

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: