IQNA

14:33 - October 21, 2020
خبر کا کوڈ: 3508381
تہران(ایکنا کینیڈا کی مانیٹوبای یونیورسٹی کے مینجمنٹ استاد کا کہنا ہے کہ عصر حاضر کی مشکلات کے حل میں روحانیت و معنویت پر مبنی سسٹم اھم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ایران میں منعقدہ ویبنار «علوم تجربی میں دینی معرفت کا کردار؛ گفتگو اور مذہبی علوم» یونیورسٹی اور مدارس کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔

 

ویبنار سے خطاب میں مانیٹوبا یونیورسٹی کے استاد برونو ڈیک (Bruno Dyck‌، نے اجتماعی ذمہ داری اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے گفتگو کی۔

 

انہوں نے روحانیت اور معنویت پر مبنی سسٹم اور مذہب اسلام، مسیحیت، هندوئیسم، بودیسم اور چینی مذہب کا مغربی نظام سے موازنہ پیش کیا۔

 

انکا کہنا تھا کہ مذہب میں تقدس، سنت‌ و اور دینی تجربے کے حوالے سے کہا کہ مذہب اور مذہبی تجربوں کا عمل دخل اہمیت کا حامل ہے۔

 

انکا کہنا تھا:  الهام، خدا، عشق و... کو عقل و سنت ہر لحاظ سے منطقی انداز میں بیان کیے جاسکتے ہیں۔

 

ڈیک نے دنیا کو معنوی حوالے سے مبنی سسٹم پر کنٹرول پر تاکید کرتے ہوئے کہا: دنیا کے اسی فیصد لوگ خود کو مذہبی سمجھتے ہیں اور یہ بہت اہم ہے کہ مذہب معاشرے کی آزادی کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے جس ماکس وبر نے

«آھنی قفس» قرار دیا ہے. وبر کہتا ہے کہ کسطرح سے ایک آھنی سیکولر قفس نے مغرب کو بند کررکھا ہے. انکا کہنا ہے کہ اس قفس سے فرار کی ایک صورت ممکن ہے کہ عشق الہی کا راستہ اختیار کیا جائے کیونکہ خدا سے عشق انسان کا قابل بنا دیتا ہے کہ وہ خود خواہی اور مغربی بند سسٹم سے نکل جائے۔

 

کینیڈین استاد کا کہنا ہے: دین ہماری مدد کرتا ہے کہ مادی سسٹم سے نکل جائے اور موجودہ بحران سے اسی صورت رھائی ممکن ہے۔

 

 

انہوں نے مادی اور مذہبی نظام کے حوالے سے کہا: مادی سسٹم میں انفرادی فائدے پر تاکید کی جاتی ہے اور پیسا اصل لذت شمار ہوتا ہے لیکن معنوی سسٹم میں دوسروں کی خدمت اور معاشرے کو اہم قرر دیا جاتا ہے جس سے انسانی معاشرہ جنم لیتا ہے اور اسی لیے آھنی قفس سے دین پر عمل کرکے آزادی ممکن ہوسکتی ہے۔

 

بین الاقوامی کانفرنس «تجربی علوم میں دین کا کردار» معروف عالم اور دانشور حجت‌الاسلام والمسلمین حکیمیان کے خطاب سے شروع ہوا۔/

3930295

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: