IQNA

20:52 - November 23, 2020
خبر کا کوڈ: 3508530
امریکہ کا منصوبہ ہے کہ سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کو کنارے لگا کر ان کے بھائی خالد بن سلمان کو ولی عہدی کی گدی پر بیٹھادیا جائے۔

یمن کی ایک نیوز ویب سائٹ نے جوبائیڈن کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے سامنے جنگ یمن اور جمال خاشقجی کا قتل دو ایسے کیس ہیں کہ جن کا تصفیہ کرنے کے مقصد سے محمد بن سلمان کو کنارے لگا کر ان کے بھائی خالد بن سلمان کو ولی عہدی کی گدی پر بیٹھادیا جائے۔

دو اکتوبرسنہ 2018 کو سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کو محمد بن سلمان کے حکم پر قتل کردیا گيا تھا۔   انتخابات میں کامیابی کی صورت میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں نظرثانی اور یمن کی جنگ میں ریاض کی حمایت بند کئے جانے کی باتیں جوبائیڈن انتخات سے پہلے کرچکے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ڈیموکریٹوں کے پاس یمن پرسعودی جارحیت سے بری الذمہ ہونے اور جمال خاشقجی کے قاتل کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات کی خفت سے نجات پانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ محمد بن سلمان کو سعودی عرب کے سیاسی منظرنامے سے ہٹادیں اور ان کی جگہ ان کے بھائی خالد بن سلمان کو ولی عہد کی گدی پر بیٹھادیں۔

مبصرین کے مطابق اس سلسلے ابھی یہ باتیں بظاہرحدس و گمان کی حد تک زیربحث ہیں تاہم امریکیوں سے تعلقات کے بغیر ریاض حکومت ایک ہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتی، دوسری طرف سعودی عرب وہائٹ ہاؤس کے لئے دودھ دینے والی گائے کے مترادف ہے کہ جس کو ڈیموکریٹ رہنما بھی آسانی کے ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔

اس بیچ یمن پرجارحیت اور جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے ذمہ دار محمد بن سلمان کو سعودی عرب کی پچاس سالہ بادشاہت کے خواب سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

بشکریہ ولایت پورٹل

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: