IQNA

9:16 - April 22, 2021
خبر کا کوڈ: 3509178
ہوٹل میں چینی یا غیرملکی سفیر موجود نہیں تھے/جاں بحق افراد میں ہوٹل کا سیکیورٹی گارڈ اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے جبکہ دھماکے میں 2 اسسٹنٹ کمشنرز بھی زخمی ہوئے۔ ڈی آئی جی

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی فائر اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اورنگ زیب بادینی نے ٹوئٹر پر 4 ہلاکتوں اور 12 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی.

سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹ ارباب کامران کاسی نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی اور کہا کہ دو زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

بلوچستان پولیس کے انسپکٹرجنرل (آئی جی) طاہر رائے نے ڈان ڈاٹ کام کو سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے کی تصدیق کی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل کے اطراف کو گھیرے میں لیا گیا ہے اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو واقعے کی تفتیش کے بھی بھیج دیا گیا ہے۔

 

ڈی آئی جی کوئٹہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ دھماکا گاڑی میں نصب مواد سے ہوا اور ہمارے سی ٹی ڈی کے عہدیدار اندر موجود ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اطلاع کے مطابق 3 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے، جائے وقوع کر گھیرے میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں کوئی غیرملکی سفیر موجود نہیں تھے اور ہوٹل میں کوئی وفد بھی نہیں تھا۔

 

بعض زرایع اور سوشل میڈیا کے مطابق دھماکے سے قبل گورنر بلوچستان اور چینی سفیر ہوٹل سے نکل چکے تھے۔

 

انہوں نے کہا کہ دھماکے سے 5 سے 6 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے اور زخمیوں میں سے اکثر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

 

ہوٹل کی ویب سائٹ کے مطابق ‘سرینا ہوٹل کوئٹہ شہر میں واحد فور اسٹار ہوٹل ہے جہاں اقوام متحدہ کےمعیار کے مطابق سیکیورٹی اورماحول ہے’۔

 

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ ‘کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں’۔

1158460

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: