IQNA

10:41 - April 27, 2021
خبر کا کوڈ: 3509203
آخری مہینوں میں اسرائیلی اہداف پر پے در پے حملوں نے اسرائیل کے اوسان خطا کردیے ہیں

ماہ اپریل 2021ء کا آخری عشرہ اور ماہ رمضان 2021ء کے ان مقدس و بابرکت شب و روز میں چند ایسے واقعات رونما ہوئے کہ مغربی میڈیا کے توسط سے دنیا کے حالات سے باخبر رہنے والے انسان شاید اب بھی یقین نہ کریں۔ ہوا کچھ یوں ہے کہ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا، برطانیہ، فرانس سمیت پورے نیٹو بلاک کے لاڈلے اسرائیل کا سارا غرور و تکبر خاک میں ملا دیا گیا۔ تل ابیب کی متکبرانہ ناک ذلت کے ساتھ زمین پر رگڑ دی گئی ہے۔ خود اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب غزہ کے علاقے سے 36 راکٹ اسرائیل کے جنوب کی جانب فائر کیے گئے۔ (اسرائیل سے مراد فلسطین پر ناجائز قابض نسل پرست یہودی ریاست ہے)۔ یاد رہے کہ اسرائیل کے مددگار نیٹو فوجی اتحاد (مغربی زایونسٹ بلاک) نے اسرائیل کی فوجی طاقت اور برتری کا ایک ہوا کھڑا کر رکھا تھا اور اس فوجی بالادستی کا ایک سبب اسرائیل کا آئرن ڈوم میزائل نظام بتایا جاتا تھا۔ جمعہ 23 اپریل2021ء کو رات گئے اسرائیل پر جب راکٹ برسنا شروع ہوئے تو پہلی خبر اسرائیلی میڈیا نے یہ دی کہ غزہ سے تین راکٹ فائر ہوئے، ان میں سے ایک آئرن ڈوم میزائل سسٹم نے روک لیا۔ سحری کے وقت تک جو اپ ڈیٹ خبر آئی، اس کے مطابق دس راکٹ فائر ہوئے اور 24 اپریل 2021ء کو اسرائیلی میڈیا نے دن کے وقت فوجی ذرائع سے حاصل ہونے والی خبر میں بیان کیا کہ 36 راکٹ فائر ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے جو میڈیا کو بتایا وہ یہ ہے کہ آئرن ڈوم میزائل سسٹم ان 36 میں سے محض 6 راکٹ(پروجیکٹائل) کو روک پایا۔

 

یہ 23 اور 24 اپریل کی درمیانی شب کی روداد ہے، جبکہ 22 اپریل جمعرات علی الصبح ایک میزائل صحرائے نقب میں اسرائیلی نیوکلیئر تنصیبات ڈیمونا کے نزدیک گرا۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ دی کہ یہ میزائل شام سے فائر کیا گیا تھا۔ البتہ کہا یہ بھی گیا کہ یہ نادانستہ طور اس مقام پر گرا، اس کا ہدف کچھ اور تھا۔ جب اس نوعیت کے دھماکہ خیز واقعات رونما ہوتے ہیں تو فلسطین کے غاصب اسرائیلی آبادی میں خطرے کی گھنٹیاں بلکہ سائرن بجا دیئے جاتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی یوں ہی ہوا۔ یعنی اسرائیلی محفوظ پناہ گاہوں کی طرف دوڑنے لگے۔ مختصر یہ کہ چین کی نیند نہ سو سکے۔ جب فلسطینیوں کا چین سکون سال 1948ء سے غاصب اسرائیل نے برباد کر رکھا ہے تو عدل یہ ہے کہ اسرائیلیوں کو اس غصب شدہ زمین پر ایک لمحہ بھی چین و سکون کا نہیں ملنا چاہیئے۔ خیر، بات کہیں اور نہ نکل جائے، قصہ مختصر یہ کہ اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم شام کی جانب سے آنے والے تنہا میزائل کو روکنے میں بھی ناکام رہا۔ ابھی تو باقاعدہ بڑی جنگ شروع بھی نہیں ہوئی، یہ تو وقفے وقفے سے ٹریلر چل رہے ہیں تو یہ حال ہے۔ جب باقاعدہ بڑی جنگ چھڑ گئی تو اب کیا ہوگا، یہ سوچنا فلسطین پر ناجائز قبضہ کرنے والی نسل پرست جعلی ریاست اسرائیل کے نیتاؤں کا کام ہے، ہمارا نہیں۔

اسرائیلی طاقت کا افسانہ پاش پاش

اسی ضمن میں تیسرا واقعہ بھی یاد رہے کہ جو منگل 20 اپریل کی صبح رونما ہوا۔ اسرائیل کے حکومتی اسلحہ کارخانے طومر میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔  بعد ازاں اسرائیلی حکومت نے اسے کنٹرولڈ ٹیسٹ قرار دے کر معاملہ دبا دیا تھا، لیکن 22 اپریل تا 24 اپریل سورج طلوع ہونے سے قبل خطے میں اسرائیل کی بالادستی کا سورج ڈوب چکا تھا۔ اسرائیل کو ایک اور مرتبہ اسلامی مقاومت و مزاحمت کے بلاک کی جانب سے یہ شٹ اپ کال دی گئی ہے کہ تم سے تو مقاومت کے بچے بھی نمٹ سکتے ہیں، باقاعدہ فوجی قیادت کا درمیان میں آنا تو بہت بعد کا مرحلہ ہے۔ ایک طویل عرصے سے اسرائیل بہت سارے محاذوں پر کامیابی کے دعوے کر رہا تھا، لیکن محض پچھلے ایک مہینے کی ڈیولپمنٹس کو دیکھ لیں تو پتہ چلے گا کہ اسرائیل اور اس کے مددگاروں کو کئی محاذوں پر ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چین اور ایران کے مابین 25 سالہ تعاون کا معاہدہ نافذ العمل ہونے کا رسمی آغاز کیا جاچکا۔ یہ انٹرنیشنل ڈپلومیسی میں ایران اور چین دونوں کی مشترکہ کامیابی ہے۔

 

پھر یہ ہوا کہ ایران کے شہر نطنز میں ایٹمی تنصیبات میں ایک تخریبی کارروائی کی گئی اور اس پر امریکی اور اسرائیلی حکام نے میڈیا کے ذریعے داد وصول کی۔ دنیا پر یوں ظاہر کیا گیا کہ یہ اسرائیل کی کامیاب کارروائی تھی۔ یقیناً یہ نیوکلیئر ٹیررازم کے زمرے میں آنے والی تخریبی کارروائی تھی۔ لیکن اس معاملے میں بھی ایران کے سکیورٹی نظام کو داد دی جانی چاہیئے کہ انہوں نے متبادل انتظامات پہلے سے کر رکھے تھے اور چند ہی دنوں میں اسی نظنز ایٹمی تنصیبات میں یورینیم کی ساٹھ فیصد افزودگی کے عمل کی خبروں نے اسرائیل اور امریکا سمیت ان کے پورے بلاک کی ذلت آمیز شکست پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اس کے علاوہ بحری جہازوں کے واقعات بھی ہوئے۔ اسرائیل اور امریکا نے جو تاثر دنیا کے سامنے ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کی شہادت کے وقت سے قائم کرنے کی کوشش کی تھی، اس سب کیے کرائے پر پچھلے ایک ماہ میں ایسا پانی پھرا ہے کہ پورے امریکی زایونسٹ و نیٹو مغربی فوجی بلاک کے لیے اس میں واضح پیغام ہے کہ ایران اور مقاومت اسلامی کے محور کو اور اس کے حامیوں کو چین و سکون سے رہنے دو، ورنہ تمہارے چین و سکون کی بھی ضمانت نہیں ہے۔

 

جوزف بائیڈن کی صدارت میں بھی امریکی حکومت نے اپنی اسلام دشمن، ایشیاء دشمن، عرب دشمن پالیسی تبدیل نہیں کی ہے۔ تاحال وہ فلسطین کے غاصب اسرائیل کی سرپرستی میں مصروف ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں فلسطینیوں پر انتہاء پسند نسل پرست یہودی حملے کر رہے ہیں۔ اسرائیلی پولیس ان نہتے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں کرکے حملہ آوروں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ ان نسل پرست انتہاء پسند یہودیوں نے عرب مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ اس خبر کے بعد بھی عرب لیگ اور عربوں کے چوہدری سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ان شیوخ و شاہ اور ان کے حکام کی عربی غیرت نہیں جاگی، اسلامی غیرت تو ویسے ہی دفنا چکے، لیکن اب ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی عربی غیرت بھی مر چکی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے ان مظلوم فلسطینیوں پر یہ مظالم رمضان کے آغاز سے ہی شروع ہوچکے تھے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے باب دمشق پر فلسطین ہر سال ماہ رمضان میں سالانہ اجتماع کرتے ہیں، اس مرتبہ اسرائیلی پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے روکا، جس پر احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔  ایک زاویئے سے دیکھیں تو غزہ میں مقیم مقاومت اسلامی کی جانب سے برسائے گئے وہ 36 راکٹ مقبوضہ بیت المقدس پر ہونے والے مظالم پر ردعمل ہو، ایسا بھی ممکن ہے۔

 

بہرحال اسلامی مقاومت کے بلاک نے عرب و عجم اتحاد کی عملی مثال قائم کرکے دکھا دی ہے۔ نہ صرف یہ عرب و عجم کی مقاومت ہے بلکہ یہ مسلمانوں کی اور مسیحیوں کی بھی مشترکہ مقاومت ہے، جس میں قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اور انہوں نے انتہائی ذمے داری سے اپنا فرض پورا کیا ہے۔ ماہ رمضان میں کورونا وائرس کی وجہ سے یوم القدس ماضی کی طرح منایا جانا مشکل ہوچکا تھا، لگتا ہے کہ اس برس یوم القدس منانے والوں کی طرف سے فلسطین کے غاصب اسرائیل پر یہ جوابی کارروائیاں کرکے عملی طور پر یوم القدس منانے کے سلسلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی دفاعی و جوابی کارروائیوں سے عالم اسلام و عرب کے مظلوموں کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ لہٰذا اس سے زیادہ موثر اور اس سے زیادہ فیصلہ کن کارروائیوں کی فوری اور شدید ضرورت ہے۔ اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیئے، کیونکہ اسی طرح عالم اسلام و عرب کے مظلوموں کو ظلم و ستم سے جلد نجات ملنی ہے۔ امریکی زایونسٹ مغربی بلاک جس میں اب چوہدری سعودی عرب، امارات و بحرین بھی باقاعدہ شامل ہیں، انہوں نے مل جل کر بیت المقدس پر ناجائز قبضہ کرنے والے اسرائیل کی یا سرپرستی کی ہے یا پھر سہولت کار بنتے رہے ہیں۔ ان سے عالم انسانیت کو کسی خیر کی امید نہیں۔ کسی انسان اور خاص طور پر کسی مسلمان اور کرسچن کو اس خود فریبی میں نہیں رہنا چاہیئے کہ یہ سفید نسل پرست نیٹو ممالک اور یورپی یونین، امریکا و غیرہ یا پھر سعودی عرب، امارات و بحرین اور ان کے حامی اس خباثت سے باز آئیں گے۔  مظلوموں کو متحد ہو کر اس سامراجیت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اسی طرح عالمی سامراجیت کے سارے بت پاش پاش ہوں گے!

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: