IQNA

7:40 - May 17, 2021
خبر کا کوڈ: 3509310
تہران(ایکنا) ویبنار میں ترکی کی یونیورسٹیوں کی جانب سے ترجمہ و تفسیر میں کوششوں کو سراہا گیا اور ایرانی و ترکی یونیورسٹیوں میں ہم آہنگی پر تاکید کی گیی۔

ایران کے ادارہ قرآن و عترت کے تعاون سے منعقدہ قرآنی ویبنار میں جدید قرآنی آثار کا جایزہ لیا گیا جہاں

انکارایونیورسٹی کے پروفیسر اسماعیل چالیشکان، اور ایران کی علامه طباطبایی(ره) یونیورسٹی کے ڈاکٹر علی شریفی اور ڈاکٹر داوود کریم لو ویبنار کی سرپرستی کررہے تھے۔

 

نشست سے پروفیسر اسماعیل چالیشکان نے ترکی میں ترجمہ و تفسیر کی کاوشوں پر خطاب کیا اور کہا کہ گذشتہ پچاس سالوں میں ان شعبوں پر کافی کام کیا گیا ہے۔

 

 چالیشکان  کا کہنا تھا کہ پہلے کچھ لوگ قرآن کو ترکی زبان میں دیکھنا چاہتے تھے اور انکا خیال تھا کہ قرآن کو ترکی میں پڑھا جائے، اگرچہ ایسے لوگ کم تھے مگر انکا پروپگنڈہ زیادہ تھا تاہم ستّر کے عشرے میں قرآنی ترجموں اور تفاسیر پر توجہ زیادہ دی گئی۔

قرآنی ویبنار؛تفسیر و ترجمہ میں ترکی کی کاوش کی تعریف

انکا کہنا تھا کہ افغانستان میں روسی انقلاب، ایران میں انقلاب اسلامی، ترکی میں فوجی بغاوت اور مسئلہ فلسطین کے وقت اس بحث میں تیزی آئی اور اس کی وجہ سے قرآنی تفسیر و ترجمہ پر انکا اثر ہوا۔

انکا کہنا تھا کہ اسی کی دہائی میں علمی اداروں میں قرآن کی طرف رجوع کا بحث شروع ہوا کہ قرآنی اسلام کی طرف لوٹا جائے اور کچھ کہتا تھا کہ قرآن کی طرف لوٹا جائے۔ بعض کہتے تھے کہ قرآن کافی ہے اور حدیث کی ضرورت نہیں ۔

 

انکا کہنا تھا کہ نوے کے عشرے میں تفسیر قرآن پر کافی کام ہوا اور ان مسائل کا جواب دینے کی کوشش کی گیی۔

قرآنی ویبنار؛تفسیر و ترجمہ میں ترکی کی کاوش کی تعریف

اور عربی، فارسی و انگریزی سے ترکی میں تفسیر پر کام کیا گیا اور اس حوالے سے لوگوں نے مودودی اور سید قطب کی تفسیر کو پسند کیا ۔

انکارا یونیورسٹی کے استاد نے سال ۲۰۰۰ میں تفسیروں کی کثرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ترجمہ اور تفسیر زیادہ ہوا اور حتی کہ ترجموں کو بھی مختصر تفسیر کی شکل دی گیی جسمیں مختصر انداز میں وضاحت موجود ہوتی۔

 

علامه طباطبایی(ره) یونیورسٹی کے ڈاکٹر علی شریفی نے نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہا: دیگر تعلقات کے برعکس ایران اور ترکی میں قرآنی اکیڈمک تعلقات کمزور ہے۔

شریفی نے ترک مفسروں کی کاوش کے حوالے سے کہا: ان میں بعض کا ایران میں ترجمہ ہوا ہے اور اگر قرآنی تحقیق پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد دوبارہ اسلامی افکار کو عام کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ کہ ترکی میں تفسیر و ترجمہ پر کام قابل تعریف ہے اور تفسیر المیزان کا بھی ترکی میں ترجمہ ہوا ہے  اور بعض محققین نے کوشش کی ہے کی سیکولر افکار سے مقابلہ کریں۔

انکا کہنا تھا کہ کوشش کی گیی ہے کہ قرآن کو مہجور ہونے سے بچایا جائے اور قرآن کو معاشرے کے اندر لاکر فروغ دیا جائے۔

شریفی نے کہا کہ ترکی کی تفسیر و ترجمہ کی سمت کوشش کا سفر جاری ہے اور یونیورسٹیوں میں سرگرمی جاری ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ترکی اور ایرانی یونیورسٹیوں میں اس حوالے سے مربرط کام کیا جائے۔/

3970351

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: