IQNA

فرنچ اخبار رپورٹ:
9:17 - June 08, 2021
خبر کا کوڈ: 3509498
تہران(ایکنا) فرنچ اخبار لومونڈ نے خواتین حفظ قرآن مراکز کے حوالے سے لکھا ہے کہ والدین بچوں کے لیے ان مراکز کو بہت اہمیت دیتے ہیں حتی اگر انکے بچے جرمنی یا فرانس وغیرہ میں شفٹ کیوں نہ ہوجائے۔

مذکورہ اخبار کے حوالے سے الجزیرہ رپورٹ میں ترک بچیوں کے حفظ قرآن کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ترکی میں ایسے مراکز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جہاں بچیاں قرآن سیکھتی اور حفظ کے لیے جاتی ہیں۔

 

رپورٹ کےمطابق  ۸ سے ۱۷ کی بچیاں تین سے چار سال تک ان مراکز میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

 

رپورٹ میں ماری گیگو، میں لکھتا ہے کہ روزانہ پانچ سے نو بجے تک ترک لڑکیاں قرآنی مرکز میں تعلیم و تدریس اور اسلامی سرگرمیوں میں مصروف ہوتی ہیں۔

 

صبیحه سیمین جنہوں نے ان مراکز کی تصاویر تیار کی ہیں کا کہنا ہے کہ حفظ کے لیے خاص توجہ اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اخبار سیمین کے حوالے سے لکھتا ہے کہ انہوں نے بارہ سال کی عمر میں تین سال قرآن مرکز میں گزاری ہے اور انکی بڑی بہن حافظہ قرآن ہے۔

ترک حفظ قرآن مراکز کا نسل نو کی ایمانی تربیت میں کردار

استنبول یونیورسٹی سے اکنامکس کی تعلیم مکمل کرنے والی سیمین فوٹو گرافر بھی ہے اور انکا کہنا ہے کہ حفظ قرآن کے لیے طالبات عربی زبان بھی سیکھتی ہیں۔

 

لوموند اخبار کے مطابق ترک صدر کے ایما پر گذشتہ بیس سالوں میں قرآنی مراکز میں اضافہ ہوا ہے جو نسل نو کی قرآنی تربیت کے خواہشمند ہے۔

 

اردوغان خود بھی مدرسہ «الائمه و الخطباء» سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں جہاں قرآن کےعلاوہ اسلامی دروس اور انگریزی،فرنچ اور جرمن زبان وغیرہ سکھائے جاتے ہیں۔

ترک حفظ قرآن مراکز کا نسل نو کی ایمانی تربیت میں کردار

اخبار کا کہنا ہے کہ ترک صدر ثقافتی انقلاب کے حامی ہے اور قرآنی تربیت کے ساتھ اس کو آگے لیجانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ترکی آبادی ۸۴ ملین ہے  جہاں ۹۹ فیصد مسلمان آباد ہے۔

فرنچ اخبار لکھتا ہے کہ حفظ قرآن سے انسانی اقدار ویلیو میں اضافہ ہوتا ہے اور ایک حافظ قرآن احترام کے قابل ہوتا ہے۔

لومون لکھتا ہے کہ صبیحہ سیمین کے مطابق حافظ قران کے برابر بلند آواز یا توہین آمیز لفظ نہیں کہنا چاہیے جبکہ حفظ قرآن کا آخرت میں تو اجر عظیم مقرر ہے۔/

3975927

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: