IQNA

10:52 - October 16, 2021
خبر کا کوڈ: 3510439
تہران(ایکنا) - افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد یہ دوسرا بڑا دھماکہ ہے جس سے انکی حکومت اور صلاحیت پر بڑا سوال اٹھنے لگا ہے۔

تازہ ترین سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق اس حملے میں مبینہ طور پر ایک سے زیادہ دہشتگردوں نے قندھار کی مسجد فاطمیہ پر حملہ کرتے وقت سب سے پہلے سیکوریٹی گارڈ کو نشانہ بنایا اور جبکہ قریب موجود طالبان حکومت کے اہلکار نے جوابی فائرنگ کی کوشش کی لیکن وہ بھی دہشتگردوں کی گولیوں کے نشانہ بنے طالبان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ان کے بھی چند اہلکار مارے گئے ہیں ،فائرنگ کے بعد ایک خود کش دہشتگرد مسجد کے اندر گھسنے میں کامیاب ہوا اور خود کو اس دھماکے سے اڑادیا جبکہ دوسرے خود حملہ آور نے مسجد سے باہر نکلنے والے نمازیوں کو نشانہ بنایا ، آخری اطلاعات تک پچاس سے زائد نمازی ان حملوں میں شہید ہوگئے ہیں اور داعش تکفیری تنظیم واقعے کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔
جب طالبان نے افغانستان میں قبضہ کیا ہے تب سے اب تک تین بڑے دھماکوں سے ان کے حلیف سمجھے جانے والے بدنام زمانہ دہشتگرد گروپ دولت اسلامیہ خراسان یا داعش نے ذمہ داری قبول کی ہے
پہلا دھماکہ کابل ائرپورٹ پر ہوا تھا کہ جہاں طالبان کے خوف سے ہزاروں لوگ بیرون ملک جانے کے لئے اکھٹے تھے اس پہلے دھماکے میں 200 سے زیادہ افراد جان بحق تھے جن میں عورتوں اور بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد تھی
دوسرا برا دھماکہ گذشتہ ہفتے جمعے ہی کے دن کندوز کی شیعہ جامع مسجد سید آباد میں ہوا کہ جہاں تقریب 125افراد شہید ہوئے تھے
واضح رہے کہ ان تین بڑے دھماکوں کے درمیان دو مزید دھماکے ہوئے ہیں جن کا نشانہ بظاہر طالبان کے افراد تھے
طالبان کا کہنا ہے کہ ان کی صفوں میں داعش کے افراد موجود ہیں جن کی تطہیر کا حکم دیا جاچکا ہے ،طالبان کا کہنا ہے کہ داعش کا کوئی ایک اونچے لیول کا فرد ان کی صفوں میں موجود ہے جو اندونی طور پر انہیں کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔
داعش کی صفوں میں شہاب المہاجر کہلانے والا نامعلوم دہشتگرد طالبان کی صفوں میں ہوسکتا ہے کہ جس کا افغانی نام ثنا اللہ بتایا جاتا ہے یہ ایک ایسا فرد ہے کہ زیادہ تر دہشتگرد اسے اس کے نام سے جانتے ہیں ،اور عبد اللہ اورکزئی کے مارے جانے کے بعد کہا جارہا ہے کہ داعش کا سرغنہ یہی شخص ہوسکتا ہے
واضح رہے کہ افغانستان پر قبضے سے پہلے یقینی طور پر داعش القاعدہ اور طالبان کے درمیان ایک قسم کا تعاون موجود رہا ہے جس کے سبب ایک دوسرے کی صفوں میں گھس آنا کوئی زیادہ مشکل کام دیکھائی نہیں دیتا خاص طور کہ طالبان ،القاعدہ ،طالبان پاکستان ،داعش کی بنیادی آئیڈیالوجی ایک ہی جگہ سے جنم لیتی ہے
طالبان نے کسی بھی ممکنہ ردعمل کے خوف سے مساجد و اہم مراکز میں موجود ذاتی یا پرائیویٹ سیکوریٹی گاڈز سے اسلحہ واپس لے لیا تھا اور ہرقسم کی پرائیویٹ سیکوریٹی کو ختم کرنے کی بات کی تھی جس کے سبب سیکوریٹی کو لیکر ایک قسم کا خلا اور بد نظمی ایجاد ہوئی اور اس نے بھی دہشتگردوں کے لئے اپنی شوم کاروائیوں کے لئے مزید مواقع فراہم کئے ۔
افغانستان ایک مسلکی ہم آہنگی کے ملک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں کبھی بھی مسلکی نفرت انگیزی کاعنصر نہ ریاستی سطح پر نہ ہی عوامی سطح پر دیکھنے کو ملی ہے البتہ ماضی بعید میں قومی تعصبات کی بنیادی پر بعض اوقات مسلک و مذہب کو بھی لپیٹ لیا جاتا رہا ہے
افغانستان میں کبھی بھی پاکستان کی طرح کھلے عام جتھوں کو نہیں دیکھا گیا جو کابل سے چمن تک کافر کافر کے نعرے لگاتے نفرت کی تجارت کررہے ہوں ۔
قندھار اور کندوز کے دھماکوں کے بعد ہسپتالوں میں افغان شہری بلاتفریق رنگ نسل و مذہب کے خون کے عطیات دینے پہنچ گئے ،اور عام شہری بھی کندوز کے شہیدوں کی یاد میں منعقد مجالس میں شریک ہوئے ،جبکہ مقامی سطح پر شہریوں نے زخمیوں کی امداد کے لئے اپنے اپنے انداز سے کوشش کی ۔
ماضی میں یہ طالبان ہی تھے جنہوں نےمذہب ومسلک کی بنیادپر تشدد کو فروغ دیا تھا ،لیکن جیسا کہ اب کہا جارہا ہے کہ طالبان بدل چکے ہیں یا پھر یہ 2.5طالبان ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ داعش جیسے نفرت و تشدد کے بیوپاریوں کے ساتھ کس قسم کی پالیسی اختیار کرتے ہیں ۔

اگرچہ طالبان حسب روایت داعش سے نمٹنے اور مجرموں کی سزا کی باتیں کر رہے ہیں اور طالبان ترجمان کے مطابق اس حملے میں طالبان اہلکار بھی مارے گیے ہیں اور مجرموں کی بیخ کوبی کی جائے گی مگر یکے بعد دیگر بڑے حملے سے طالبان کی نیت اور صلاحیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور بلاشک اس طرح کے واقعات سے جہاں انکی نوخیز حکومت کو تسلیم کرنے میں رکاوٹِیں پیدا ہوں گی وہاں افغانستان میں اقتصادی پروجیکٹ شروع کرنے والے ممالک کو بھی خدشات لاحق ہوسکتے ہیں۔/

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: