IQNA

7:19 - November 23, 2021
خبر کا کوڈ: 3510709
تہران(ایکنا) بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کی دوسری رات مختلف ممالک کی طالبات شریک تھیں۔

امارات الیوم نیوز کے مطابق بین الاقوامی «شیخه فاطمه بنت مبارک» قرآنی مقابلے جو دبئی ایوارڈ کمیٹی کے زیراہتمام شروع کیے گیے ہیں دبئی کےعلمی-ثقافتی سمپوزیم ہال میں جاری ہیں۔

 

مقابلوں کی دوسری رات بھی حاکم دبئی ابراهیم محمد بوملحه کی زیر نگرانی طالبات نے قرآنی فن کا اظھار کیا۔

 

مقابلوں میں کیمرون کی سعدیه عمر ابکر، برطانیہ کی حنیفه عبدالناصر، نایجیریا کی آسیه علی احمد ، اردن کی ایمان احمد محمد ابوعلیقه اورر کینیا کی منی عبدی فاتار عبدی فرح کے درمیان سخت مقابلے ہوئے۔

 

امریکہ کی رویده قاسم محمد کا مقابلوں کے حوالے سے کہنا تھا: انجنیر ہوں اور امریکہ میں پیدایش ہوئی ہے اور گیارہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرنا شروع کیا اور سترہ سال کی تھی جب حفظ مکمل ہوا، میرے والدین حافظ قرآن نہیں لیکن میرے چھ بھائیوں کو قرآن سے گہرا لگاو ہیں۔

 

فلپائن کی ناصوره حمود سوماعیل نے مقابلوں میں شرکت پر خوشی کا اظھار کرتے ہوئے کہا: میں ایک چائیلڈ کئیر سنٹر میں بڑھی ہوئی ہوں اور خوش قسمتی سے وہ ایک فلاحی ادارہ ہے جو یتیموں کی سرپرستی کے لیے قائم کیا گیا ہے جہاں اسلامی دروس کا بھی اہتمام ہے۔

 

فلسطینی طالبہ فریال احمد مصباح جو القاسمیه یونیورسٹی میں بزنس مینجمنٹ پڑھ رہی ہے انکا کہنا تھا کہ سات سال کی عمر سے حفظ شروع کیا اور پندرہ سال کی تھی جب حفظ مکمل ہوا، انکا کہنا تھا : میرا گھرانہ قرآنی ہے، میرے والد حافظ قرآن ہے اور میں ختم قرآن کو دیکھتی رہی ہوں اور میرے تین بھائی بھی حافظ قرآن ہیں۔

 

انڈیا کی حافظہ قرآن صالحه بایکا جنکی عمر بیس سال ہے انکا کہنا تھا:  دس سال تک انڈیا میں پڑھتی رہی اور پھر والد کے ساتھ امارات منتقل ہوئی ہوں اور مرکز حفظ دبئی میں قرآن حفظ کیا۔

 

انکا کہنا تھا: پہلی بار بین الاقوامی مقابلہ حفظ میں شرکت کررہی ہوں اور میرے والد نے میری حوصلہ افزائی کی کہ اس میں شرکت کروں۔/

4015388

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: