IQNA

8:00 - February 21, 2022
خبر کا کوڈ: 3511355
کالعدم سپاہ صحابہ نے معروف اسکالر اور عالم دین علامہ ریاض حسین نجفی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔

ایکنا نیوز کے مطابق مبصرین نے اس بات پر تشویش کا اظھار کیا ہے کہ اہل تشیع کے تحفظات دور کرنے کی بجائے چند شرپسندوں کا ٹولہ ملک کا امن و امان خراب کرنے پر تلا ہوا ہے، حکومت کو نصاب پر تنقید کرنیوالوں کو نہیں بلکہ متنازع نصاب نافذ کرانیوالوں کیخلاف کارروائی کرنی چاہیئے، جو اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

  کالعدم سپاہ صحابہ کی قیادت نے یکساں قومی نصاب کے معاملے میں اہل تشیع کے تحفظات نظرانداز کرتے ہوئے یکساں قومی نصاب کے حالیہ ایڈیشن کو مکمل قرار دے دیا اور اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم کی مخالف کر دی۔ اس حوالے سے لاہور میں مرکز اہلسنت میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے کی جبکہ ایم پی اے معاویہ اعظم، پیر امین الحسنات شاہ، میاں جلیل احمد شرقپوری، مولانا الیاس چنیوٹی، مولانا عبدالروف فاروقی، مولانا سید کفیل بخاری، مولانا عبدالخالق رحمانی، مولانا عبدالغفور راشد، مولانا فہیم الرحمان سمیت دیگر رہنماء شریک ہوئے۔

 

اس موقع پر مولانا احمد لدھیانوی نے کہا کہ یکساں قومی نصاب کی آڑ میں جلیل القدر صحابہ کرام کی گستاخی پر فی الفور کارروائی کی جائے، تحفظ ناموس صحابہ و اہلبیت کیلئے موثر قانون سازی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے بنائے گئے یکساں قومی نصاب کی مکمل تائید و حمایت کی گئی۔ احمد لدھیانوی نے کہا کہ جلیل القدر صحابہ کرام حضرت ابوہریرہ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی گستاخی اور جملہ صحابہ کرام پر تنقید کو شدید قابل مذمت و تشویشناک امر قرار دیتے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گستاخی کیخلاف موثر قانون سازی کیلئے رائے عامہ ہموار کی جائے گی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ علامہ ریاض حسین نجفی صدر وفاق المدارس الشیعہ کی جانب سے کی گئی گستاخی پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

یاد رہے کہ یکساں قومی نصاب کی آڑ میں متنازع شخصیات کو کلین چٹ دلوانے کیلئے ان کو معتبر بنا کر نصاب میں شامل کیا گیا ہے، جس پر علامہ ریاض نجفی نے جمعہ کے اجتماع میں تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ متنازع شخصیات کا احترام زبردستی کیوں مسلط کیا جا رہا ہے؟ اگر کوئی کسی کے اکابرین کو نہیں مانتا تو کیوں زبردستی ماننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یکساں قومی نصاب کو ناصبیت کا عکاس قرار دیا تھا۔ مبصرین کے مطابق اہل تشیع کے تحفظات دور کرنے کی بجائے چند شرپسندوں کا ٹولہ ملک کا امن و امان خراب کر رہا ہے، حکومت کو نصاب پر تنقید کرنیوالوں کو نہیں بلکہ متنازع نصاب نافذ کرانیوالوں کیخلاف کارروائی کرنی چاہیئے، جو اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

 

دوسری جانب اجلاس میں شریک بریلوی مکتب فکر کے زعماء کا کہنا ہے کہ انہیں کسی اور ایجنڈے کا کہہ کر اجلاس میں بلایا گیا تھا اور وہاں متنازع نصاب کا معاملہ چھیڑ دیا گیا۔ بریلوی علماء کو کہنا ہے کہ اجلاس کے بعد یکطرفہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس کے بارے میں ہمیں بتایا بھی نہیں گیا اور نہ ہم سے منظوری لی گئی۔

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: