IQNA

9:00 - April 09, 2022
خبر کا کوڈ: 3511647
خاندانی سیاست کے علمبرداروں کو نہ تو اسلام کی سربلندی کی پرواہ ہے، نہ ہی انہیں ناموس رسالت سے کوئی غرض ہے.
ہو سکتا ہے، کہ میری یہ باتیں پڑھ کر، آپ دل ہی دل میں مجھے برا بھلا کہیں، اور ہو سکتا ہے، کہ کسی کی طرفداری کا الزام بھی لگا دیں، یا شائد آپ کو یہ خیال بھی آئے، کہ یہ ایسی باتیں جذباتی ہونے کی وجہ سے کہہ رہا ہے، یا اس کے علاوہ بھی آپ کوئی احتمال دے سکتے ہیں، اور آپ کو حق ہے کہ آپ جیسے بھی سوچیں، یا جو بھی رائے قائم کریں، لیکن حقیقت تو یہ ہے، کہ آج عمران خان صاحب کی تقریر سن کر بہت دکھ ہوا، کچھ عجیب سا لگا، آپ یقین جانیے نہ تو مجھے عمران خان صاحب سے کوئی غرض ہے، اور نہ ہی تحریک انصاف سے۔ 
 
لیکن ایک آزاد اور خود دار پاکستانی ہونے کے ناطے مجھے آج بہت دکھ ہوا، کہ ہم ایک اسلامی ملک کے باشندے، 22 کروڑ عوام، ایک ایٹمی ملک، قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کا ملک، علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کا پاکستان، کہ جنہوں نے پوری زندگی استعمار کے خلاف لڑتے گزاری، اس عظیم رہنماؤں کے ملک پر کونسے لوگ حکومت کرتے چلے آئے ہیں، ایسے حکمران جو امریکہ کی ایک فون کال پر لیٹ جاتے ہیں، جن کو یہ کہتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی، کہ ہم امریکہ کے بغیر سانس نہیں لے سکتے، جن کے موثر ادارے امریکہ کے اشاروں پر ناچتے نظر آئے، وہ ملک جو لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا تھا، کہ جب ہمارے ملک کی اس وقت کے رہنماؤں نے برصغیر کے گوش و کنار میں یہ نعرہ ہر آزاد انسان کے دل و دماغ میں راسخ کیا تھا، کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ، یعنی ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، کسی کو بھی اپنا معبود تصور نہیں کرتے، کسی کو بھی عظیم طاقت شمار نہیں کرتے، ایسے ملک میں آج ایسے لوگ دندناتے پھرے، کہ جن کا دین و ایمان امریکہ کی رضامندی اور خوشنودی ہے؟!! 
 
کونسا امریکہ جو اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں بدترین شکست سے دوچار ہو چکا ہے، وہ امریکہ جو پچھلے تینتالیس سال سے ہر چال چلنے کے باجود ایران میں اسلامی انقلاب کا کچھ نہیں بگاڑ  سکا، جو پچھلے چالیس سال سے لبنان میں موجود ایک مقاومتی تحریک حزب اللہ کے سامنے دسیوں بار ذلیل و رسوا ہوا، وہ امریکہ جو پچھلے گیارہ سال سے اپنے تمام تر حواریوں کو ملا کر بھی شام میں بشار الاسد کی حکومت نہیں گرا سکا، جو پچھلے سات سالوں سے یمن کے بہادر فرزندوں کے سامنے ذلیل و خوار ہو رہا ہے، ایسے شکست خوردہ ملک کی اتنی ہیبت کہ وہ ہمارے ملک میں جو کچھ کرنا چاہے کر سکتا ہے، کیا یہ افسوس کا مقام نہیں، کیا یہ ہم سب کے لئے ننگ و عار نہیں، کیا ہمارے اندر شامیوں جتنا بھی حوصلہ نہیں، جو امریکہ کو بس کہہ سکے؟!!
کیا یہ اسی علامہ محمد اقبال کا ملک نہیں، جس نے کہا تھا: 
 
غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو ----- تاج سر دارا 
 
ایسے ملک میں ایسے لوگ کیسے برسر اقتدار آجاتے ہیں، جو امریکہ سے ایسے خوف محسوس کرتے ہیں، جیسے ہرن بھیڑیے کے سامنے، کیا کل تاریخ یہ نہیں لکھے گی، کہ جب امریکہ دنیا میں ہر جگہ خوار و ذلیل ہو رہا تھا، اس وقت پاکستان کے کچھ طبقے اقتدار کے حصول کی خاطر اسی شکست خوردہ امریکہ کے سامنے کانپتے نظر آئے؟!! واقعا یہ افسوس کا مقام ہے۔
 
 مجھے لگتا ہے، اور شائد میرا یہ خیال غلط نہ ہو، کہ یہ پاکستان اب قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان نہیں رہا، یہ پاکستان اس عالمی اور اسلامی رہنما علامہ محمد اقبال کا پاکستان نہیں رہا، جنہوں نے اپنے الہامی کلام میں جا بجا مغرب پر کڑی تنقید کی، اور اس کی چنگیز خان سے بھی بدتر حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کیا، کیا یہ سچ نہیں کہ ماضی میں بھی، اور آج پھر اسی پاکستان میں ایسے لوگوں کے لئے حکمرانی کی راہ ہموار ہو رہی ہے، کہ جن کے بارے علامہ صاحب نے اپنے ایک تاریخ شعر میں کہا تھا۔ 
 
تیرا وجود -------------- سراپا تجلی افرنگ
کہ تو وہاں کی عمارت گروں کی ہے تعمیر 
 
آپ یقین جانیے کہ ان خاندانی سیاست کے علمبرداروں کو نہ تو اسلام کی سربلندی کی پرواہ ہے، نہ ہی انہیں ناموس رسالت سے کوئی غرض ہے، نہ ہی ان کو پاکستان کی عزت و وقار کا کوئی خیال ہے، اور نہ ہی یہ پاکستانی عوام کی بہتری چاہتے ہیں، اگر ان کو کسی چیز کی پرواہ ہے، تو وہ ان کا کرسی اقتدار، مال و دولت، اور طاقت و شہرت ہے، رہی بات خود مختاری، قومی وقار، ملک کی عزت و اقتدار، خود داری، خود ارادیت، غیرت و حمیت، اور ملک و قوم کی خاطر قربانی، ان جیسے مفاہیم ان خود غرض طبقے کے پاس سے بھی نہیں گزرے۔ 
 
واقعا جو عزت سے جینا چاہتے ہیں، اگر وہ چند لمحے بھی ان اقتدار کے بھوکوں کے بارے سوچے، تو شائد انہیں ان کی حکمرانی میں زندگی گزارنے سے شدید نفرت ہو جائے۔ کیا یہ ڈوب مرنے کا مقام نہیں، کہ علی الاعلان یہ بات کہی جائے، کہ ہم امریکہ کے علاوہ سانس بھی نہیں لے سکتے، کیا یہ بعینہ کفر نہیں، یہ نہ سمجھنا کہ میں کسی پر کفر کا فتوی لگا رہا ہوں، بلکہ اسی مملکت خداداد کے عظیم رہنما، بلند پایہ مفکر حضرت علامہ اقبال یہ کہہ چکے ہیں:
 
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نا امیدی
مجھے بتا تو سہی --------- اور کافری کیا ہے 
 
ہمیں عالمی بینک سے تو امیدیں ہوں، اور ہم نے امریکہ سے تو آس لگا رکھی ہو، لیکن خداوند متعال جو قادر و قاہر ہے، اس ذات مقدسہ سے کوئی بھی امید نہ ہو، یہ کونسا اسلام ہے، یہ کونسی دینداری ہے، یہ کونسا ایمان ہے، کیا ایسے مسلمانوں کو دیکھ کر یہود و ہنود شرم محسوس نہیں کرتے؟!
 
شور ہے ------------- ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود 
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود! 
وضع میں تم ہو نصاری -------- تو تمدن میں ہنود 
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے - شرمائیں یہود 
 
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو 
تم سبھی کچھ ہو ------ بتائو تو مسلمان بھی ہو! 
 
یہ ذلت پذیر حکمران طبقہ واقعا سب کچھ ہے، مگر مسلمان نہیں، معاف کیجیے گا، شائد آپ تصور کریں گے، کہ میں جذبات میں بہہ گیا، اور مبالغہ آرائی سے کام لیا، لیکن حقیقت تو یہ ہے، کہ آج مجھے بہت ہی برا لگا اور بہت ہی عجیب محسوس ہوا، کہ آخر ہم کس ملک میں جی رہے ہیں، کونسے لوگوں کے ہاتھوں میں اس ملک کا نظم و نسق ہے؟!
 
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 
 
محمد اشفاق
6 رمضان المبارک، 8 اپریل 2022
دمشق۔
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: