IQNA

8:55 - May 25, 2022
خبر کا کوڈ: 3511932
پوچھا جاتا ہے کہ فقر و دولت میں سے کون سے اسلام کے نزدیک ویلیو زیادہ ہے مگر اسلامی متن و روایات میں دیکھا جائے تو جواب سادہ نہیں۔

فقر و ناداری اسلامی متن و روایات میںایکنا نیوز- اسلامی ٹیکسٹ میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں«فقر»، «غنا»، «ثروت یا دولت» اور ... ایک پر تاکید ممکن نہیں۔

اگراسلامی تاکیدات پر توجہ کی جائے اور اقتصادی حوالے سے ایک پر تاکید کریں تو پانچ نکات واضح ہوجاتے ہیں:

 ۱. جب فقر و غربت کی تعریف کی جاتی ہے، رسول گرامی فرماتے ہیں «الفقر فخری؛  فقرمیرے لیے فخر ہے». یا اسی طرح کہا گیا ہے کہ فقرا کا گروپ پہلا گروپ ہے جو یوم محشر جنت میں داخل ہوگا اور اسی طرح دیگر روایات موجود ہیں۔

۲. فقر کی مخالفت. «کاد الفقر ان یکون کفرا». اگر اس کا سادہ ترجمہ کیا جائے تو کہنا پڑےگا «یعنی فقر کفر کے نزدیک ہے».

۳. دولت و ثروت اور خاندان کی سہولت پر بھی روایات میں تاکید کی گئی ہے.

۴. ایسی روایات یا تاکیدات موجود ہیں جنمیں دولت مندی کی بات کی گیی ہے: «یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّ کثِیرً‌ا مِّنَ الْأَحْبَارِ‌ وَالرُّ‌هْبَانِ لَیأْکلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیصُدُّونَ عَن سَبِیلِ اللَّهِ وَالَّذِینَ یکنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا ینفِقُونَهَا فِی سَبِیلِ اللَّهِ فَبَشِّرْ‌هُم بِعَذَابٍ أَلِیمٍ؛ اے ایمان لانے والو، بہت سے یہودی اور راہب ناحق لوگوں کے اموال کھاتے ہیں، [انکو] راہ خدا سے روکتے ہیں، جو ہیرے و جواہرات کو خزانہ میں جمع کراتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے، انکو دردناک عذاب کی خبر دیجیے۔»(توبه، ۳۴).

۵. کچھ اور جگہوں پر تاکید ہے کہ «کفاف» مناسب حد ہے۔ کفاف یعنی فقر وغنا یا ناداری و دولت مندی کے درمیانے مقام جہاں نہ انسان کے پاس بہت پیسہ ہوتا ہے اور نہ زیادہ غریب، بلکہ گزاراہ ہوجاتا ہے اس درجے کی بہت تاکید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ خدا کے خاص بندوں کا یہی مقام اور حال ہوتا ہے یعنی بقدر ضرورت انکے پاس مال ہوتا ہے۔

 

* اجتماعی علوم اور ثقافتی اسٹڈی مرکز کے رکن اور اقتصادی نظریات کے ماہر  سیدمحمدهادی گرامی کی کتاب سے اقتباس

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: