
یہ بات انہوں نے جنوبی تہران میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی(رح) کے مزار پر تجدید عہد کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس تقریب میں صدر اور کابینہ کے ارکان کے علاوہ ملک کے اعلی سول اور فوجی حکام بھی شریک تھے۔
صدر کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات میں بدقسمتی سے ٹرمپ ہو، نیتن یاہو ہو اور بعض یورپی حکام نے ہمارے ملک میں تفرقہ پیدا کرنے اور دہشت گردوں کو لیس کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن عوام کے درمیان تفریق اور نفرتین پھیلا کر ملک کو ٹکڑے ٹکرے کرنا چاہتے تھے لیکن عوام نے باہمی اتحاد کے ذریعے اس سازش کو ناکام بنادیا۔
صدر ایران نے حالیہ مظاہروں کے درمیان رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عام سماجی احتجاج میں مظاہرین بندوق لیکر نہیں آتے، سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں اور نہ ہی ایمبولینسوں اور دکانوں کو آگ لگاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ مسئلہ صرف سماجی احتجاج نہیں تھا امریکہ اور صیہونی حکومت نے ہمارے مسائل سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشرے کوتقسیم کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن رہبر انقلاب اسلامی کی مدبرانہ قیادت اور عوام کے اتحاد نے دشمن کی سازش پر پانی پھیر دیا۔
صدر ایران کا کہنا تھا کہ حکومت مظاہرین کی بات سننے اور ان کے جائز مطالبات پوری کرنے کی پابند ہے۔