عامر عثمان؛ شیخ القرائے مصر سے ریکارڈنگ کی نظارت تک

IQNA

عامر عثمان؛ شیخ القرائے مصر سے ریکارڈنگ کی نظارت تک

8:13 - May 23, 2026
خبر کا کوڈ: 3520243
ایکنا: شیخ سید عامر عثمان مصر کے سابق شیخ القراء تھے جنہوں نے مصر کے پانچ عظیم قراء کی تلاوت کردہ قرآن کریم کی ریکارڈنگ کی نگرانی کی۔ وہ مدینہ منورہ، شہرِ رسول ﷺ میں انتقال کرگئے۔

ایکنا نیوز- خبر رساں ویب سائٹ "ویتو" نے اپنے ایک مضمون میں، جسے مختار محمود نے 20 مئی کو شیخ عامر عثمان کی برسی کے موقع پر تحریر کیا، لکھا ہے کہ شیخ سید عامر عثمان مصر کے سابق شیخ القراء اور پیشے کے اعتبار سے نانبائی تھے، جنہوں نے مصر کے پانچ بڑے قراء کی قرآنی تلاوت کی ریکارڈنگ کی نگرانی کی۔ ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور انہیں روضۂ رسول ﷺ کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿الَّذِينَ ءَاتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسے پڑھنے کا حق ہے، یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ (سورۂ بقرہ: 121) کے مصداق، شیخ عامر عثمان یقیناً انہی روشن ستاروں میں سے ایک تھے۔ وہ مئی میں پیدا ہوئے اور مئی ہی میں وفات پائی، اور ان کی زندگی 88 برس پر محیط رہی۔

شیخ عامر سید عثمان 16 مئی 1900ء کو مصر کے صوبہ شرقیہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری ہی میں قرآن کریم حفظ کرلیا تھا اور معاصر دور کی ممتاز قرآنی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ 20 مئی 1988ء کو ان کا انتقال ہوا اور انہیں مدینہ منورہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ بدھ 20 مئی  ان کی وفات کی اڑتیسویں برسی تھی۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں شیخ عطیہ سلامہ سے حاصل کی، پھر شیخ ابراہیم البنّاسی کی شاگردی اختیار کی اور فنِ تجوید میں مہارت حاصل کی۔ اسی استاد سے انہوں نے شاطبیہ اور الدرہ کے طریقوں کے مطابق قراءتِ عشرہ بھی سیکھی۔

عامر عثمان از نظارت بر ضبط قرآن تا شیخ القرائی مصر

 

جامعہ الازہر میں تعلیم

شیخ عامر نے جامعہ الازہر میں داخلہ لیا جہاں انہوں نے اسلامی اور عربی علوم حاصل کیے۔ بعد ازاں انہوں نے قاہرہ میں اپنے گھر پر قراءتِ قرآن کی تدریس شروع کی، اور ان کا گھر قرآن سیکھنے والوں اور طلبہ کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا۔

1945ء میں انہیں جامعہ الازہر کے کلیۂ زبانِ عربی میں شعبۂ قراءتِ قرآن کا مدرس مقرر کیا گیا، اور وہ 1968ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس کے بعد انہوں نے مصر کے ادارۂ قراءتِ قرآن میں اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں، یہاں تک کہ 1980ء میں ممتاز مصری قاری شیخ محمود خلیل الحصری کے بعد مصر کے شیخ القراء مقرر ہوئے۔

مصر کا ادارۂ قراءتِ قرآن (مشیخة القراء) 1860ء میں قائم کیا گیا تھا، جو پورے ملک کی بڑی مساجد میں موجود 12 ہزار سے زائد مراکزِ قراءت کی نگرانی کرتا ہے۔

عظیم قراء کی تلاوت کی نگرانی

شیخ عامر عثمان نے پانچ عظیم مصری قراء:

محمود خلیل الحصری

عبدالباسط عبدالصمد

محمد صدیق المنشاوی

مصطفی اسماعیل

محمود علی البنا

کی تلاوت کردہ قرآن کریم کی ریکارڈنگ کی نگرانی کی۔ اسی طرح انہوں نے تجوید کے ساتھ قرآن کی ریکارڈنگ کے عمل کی بھی نگرانی کی، جس میں یہ قراء اور دیگر ممتاز قاری شامل تھے۔

تصحیحِ قرآن میں شہرت

بیسویں صدی کے آخری چوتھائی میں مصر میں شائع ہونے والا شاید ہی کوئی قرآن ایسا ہو جس پر بطور مصحح شیخ عامر عثمان کا نام موجود نہ ہو۔ وہ مصر کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے قراء کے انتخابی بورڈ کے بھی رکن تھے۔

ان کے بے شمار شاگردوں میں عبدالباسط عبدالصمد، مصطفی اسماعیل، کامل یوسف البہتیمی، صادق قمحاوی اور رزق خلیل حبہ جیسے نام شامل ہیں، جو قراءت اور تعلیمِ قرآن میں بلند مقام رکھتے ہیں۔

1980ء میں شیخ محمود خلیل الحصری کے انتقال کے بعد شیخ عامر عثمان ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ چار سال بعد وہ مدینہ منورہ گئے تاکہ شاہ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس میں بطور مشیر خدمات انجام دے سکیں۔ وہ زندگی کے آخری لمحے تک وہیں مقیم رہے اور اپنی پوری زندگی قرآن کریم کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ یہی قرآن انہیں دنیا و آخرت میں بلند مقام عطا کرنے کا سبب بنا۔

 

4353594

نظرات بینندگان
captcha