قاری منشاوی کی تلاوت ناقابل فراموش کیوں؟

IQNA

قاری منشاوی کی تلاوت ناقابل فراموش کیوں؟

6:31 - June 14, 2026
خبر کا کوڈ: 3520323
ایکنا: یہ داستان 1960 کی دہائی سے شروع ہوتی ہے، جب استاد محمد صدیق منشاوی نے ریڈیو قرآن کے لیے قرآنِ کریم کی مکمل تلاوت ریکارڈ کروائی۔

ایکنا نیوز کے مطابق، مصر کے ریڈیو قرآن نے حال ہی میں استاد منشاوی کی جس آواز کو نشر کیا، وہ محض آرکائیوز سے نکالی گئی پرانی ریکارڈنگز نہیں تھیں، بلکہ ایک ایسی آواز کی نئی دریافت تھیں جو اپنے صاحب کے کئی دہائیاں قبل انتقال کر جانے کے باوجود آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہے۔

جب مصر کے ریڈیو قرآن نے مرحوم قاری محمد صدیق منشاوی کی نادر قرآنی تلاوتوں کی نشریات شروع کیں تو یہ تلاوتیں سوشل میڈیا پر نمایاں ترین موضوع بن گئیں۔ کئی روز تک منشاوی کا نام عوامی گفتگو کا مرکز رہا اور اس نے اہم کھیلوں اور خبروں کے واقعات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس صورتِ حال نے ایک پرانے سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا کہ آخر وہ کون سا راز ہے جو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس آواز کو زندہ رکھے ہوئے ہے؟

یہ قصہ 1960 کی دہائی میں شروع ہوا، جب استاد منشاوی نے ریڈیو قرآن کے لیے قرآنِ مجید کی مکمل تلاوت ریکارڈ کروائی۔ اگرچہ جائزہ کمیٹی نے اس ریکارڈنگ کی توثیق کی اور اسے سراہا، لیکن استاد خود مطمئن نہ تھے۔ ریکارڈنگ سننے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ بعض ٹیپس ان کے معیار کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے ان حصوں کو دوبارہ ریکارڈ کرنے کی رسمی درخواست پیش کی۔

 

راز ماندگاری صوت منشاوی

اپنی بے مثال دقتِ نظر اور کمال پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے منشاوی نے ایک غیر معمولی اقدام کیا۔ انہوں نے مکمل تلاوت پر مشتمل 82 ٹیپس میں سے 32 ٹیپس کی دوبارہ ریکارڈنگ کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ یہ کام مکمل ہونے کے بعد کمیٹی نے 1967 میں اس نئے نسخے کی باضابطہ منظوری دے دی۔

تاہم حیرت انگیز طور پر یہ نسخہ کبھی عوام تک نہ پہنچ سکا اور کئی دہائیوں تک ریڈیو کے آرکائیو میں محفوظ رہا۔

مصر کے ادارۂ تلاوتِ قرآن کے سابق سربراہ، شیخ احمد عیسی المصراوی نے بتایا کہ انہوں نے خود اس نئے نسخے کو سنا ہے اور اس میں منشاوی کی آواز کی ایسی لطافت اور روحانیت محسوس کی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے نشر ہونے والی ریکارڈنگز میں موجود نہیں تھی۔

راز ماندگاری صوت منشاوی

 

انہوں نے زور دے کر کہا کہ دونوں نسخوں کے درمیان فرق بالکل واضح ہے۔ ان کے بقول نئی ریکارڈنگز اپنی روشن آواز، مضبوط ادائیگی اور غیر معمولی جمالیاتی و روحانی کیفیت کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ المصراوی کا ماننا ہے کہ جو بھی ان ریکارڈنگز کا پرانی نشریات سے موازنہ کرے گا، وہ اس فرق کو بخوبی محسوس کرے گا۔

تاہم المصراوی کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ یہ ریکارڈنگز اتنے طویل عرصے تک عوام کی نظروں سے اوجھل کیوں رہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب شیخ منشاوی نے خود دوبارہ ریکارڈنگ کی درخواست دی، ریڈیو قرآن نے اس سے اتفاق کیا اور کمیٹی نے بھی نئے نسخے کی توثیق کر دی، تو پھر یہ ریکارڈنگز تقریباً ساٹھ برس تک آرکائیو میں کیوں پڑی رہیں؟

المصراوی کے مطابق منشاوی صرف ایک ماہر قاری یا خوبصورت آواز کے مالک نہیں تھے، بلکہ وہ فنی معیار، دقت، مہارت، حسنِ صوت اور گہری روحانیت کو بیک وقت یکجا کرنے والی منفرد شخصیت تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ منشاوی کی تلاوت میں ایک خاص "قرآنی روح" پائی جاتی ہے جو انہیں کسی دوسرے قاری، حتیٰ کہ مصری مکتبِ قراءت کی عظیم شخصیات میں بھی نظر نہیں آتی۔

.

راز ماندگاری صوت منشاوی

 

المصراوی نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں نے ثابت کر دیا ہے کہ منشاوی کی غیر معمولی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کے بقول "شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں جائیں اور شیخ منشاوی کی آواز سنائی نہ دے"، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی مقبولیت اور قبولیت عطا فرمائی ہے جو کسی دوسرے قاری کے حصے میں نہیں آئی۔

جب مصر کے ادارۂ تلاوتِ قرآن کے سابق سربراہ سے پوچھا گیا کہ عظیم مصری قراء میں سے کس کی آواز ان کے دل کے سب سے زیادہ قریب ہے، تو انہوں نے بلا تردد جواب دیا: "شیخ محمد صدیق منشاوی۔" محمد صدیق منشاوی

 

4357036

نظرات بینندگان
captcha