ایکنا نیوز- العہد نیوز کے مطابق عراق ان دنوں امامِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای کی تاریخی تشییع کے لیے وسیع انتظامات میں مصروف ہے، جو نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں منعقد کی جائے گی۔ یہ مراسم مختلف عراقی اداروں اور ایرانی حکام، بشمول بغداد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے، کی باہمی ہم آہنگی سے (8 جولائی) کو منعقد ہونے والا ہے۔
بغداد میں ایرانی سفارت خانے کے قریبی ذرائع کے مطابق، امامِ شہید کے جسدِ مطہر کو آٹھ جولائی کو نجف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے عراق لایا جائے گا۔ اس موقع پر عراقی حکام، دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات ان کا استقبال کریں گی اور نجف ایئرپورٹ پر ایک باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوگی۔
اس کے بعد جسدِ مطہر کو روضۂ مبارک حضرت امیرالمؤمنینؑ منتقل کیا جائے گا، جہاں زیارت اور الوداعی مراسم ادا کیے جائیں گے۔ پھر تشییعی قافلہ کربلائے معلیٰ روانہ ہوگا اور بین الحرمین کے علاقے میں عوامی تشییع کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ بعد ازاں جسدِ مطہر کو دوبارہ نجف ایئرپورٹ منتقل کیا جائے گا اور وہاں سے مقدس شہر مشہد روانہ کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، روضۂ علوی، روضۂ حسینی اور روضۂ عباسی کی انتظامیہ، نجف اور کربلا کی صوبائی حکومتیں، عراق کی وزارتِ ٹرانسپورٹ، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ، الحشد الشعبی اور عراقی وزیرِ اعظم کا دفتر ان اداروں میں شامل ہیں جو اس تقریب کی منصوبہ بندی اور انتظامی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔
توقع ہے کہ عراق کے مختلف صوبوں سے لاکھوں، بلکہ ایک ملین سے زائد شہری اس تشییعی مراسم میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ عراق کی ممتاز دینی، سیاسی، قبائلی، ثقافتی اور جامعاتی شخصیات بھی اس تاریخی موقع پر موجود ہوں گی۔
نجف اور کربلا میں تشییع کے علاوہ یہ بھی متوقع ہے کہ لاکھوں عراقی زائرین 4 سے 9 جولائی تک تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہونے والے تشییعی مراسم میں شرکت کے لیے ایران کا رخ کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ایران اور عراق کے متعلقہ اداروں نے زمینی سرحدی راستوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے زائرین کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے پہلے ہی ضروری رابطے اور انتظامات شروع کر دیے ہیں۔/
4360878