ایکنا نیوز- عالمی نشریاتی ادارے الکوثر سے وابستہ معروف میڈیا شخصیت اور حزب اللہ لبنان کے شہید مجاہد محمد باقر علی کرکی کی اہلیہ، حورا یاسین نے ایکنا کے ساتھ گفتگو میں خاندان کے استحکام میں میڈیا کے کردار، شہداء کے خاندانوں کی زندگی، صہیونی رژیم کی جارحیت کے مقابلے میں لبنانی عوام کی ثابت قدمی اور لبنانی معاشرے میں مزاحمت کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ایکنا: آپ عالمی الکوثر نیٹ ورک کے پروگرام ’’فنجان قہوہ‘‘ میں خاندانی اور سماجی مسائل پر گفتگو کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں جب خطہ مختلف جنگوں اور بحرانوں سے دوچار ہے، آپ کے نزدیک میڈیا امید برقرار رکھنے اور خاندانوں کو مضبوط بنانے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
حورا یاسین: آج میڈیا ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے اور معلومات و خبروں تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر دشمن میڈیا کو مزاحمت کی حامی فضا کو نقصان پہنچانے، عوام کے حوصلے کمزور کرنے اور ان میں تزلزل پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
لہٰذا میڈیا کی فعالیت میں اضافہ، اس کے معیار کو بہتر بنانا اور اسے درست سمت دینا مزاحمتی قوتوں اور عوام کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیا حقائق کو آشکار کرتا ہے اور جھوٹے بیانیوں اور معاند ذرائع ابلاغ کے اثرات کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس میڈیا کی طاقت کو عسکری طاقت کے ساتھ امت کے مسائل کی خدمت کے لیے استعمال کریں تاکہ عالمی رائے عامہ حقیقت کو اسی طرح دیکھ سکے جیسی وہ ہے۔
ایکنا: شہید کرکی کا خاندان لبنان میں مزاحمت کی معروف علامتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے خاندان میں زندگی گزارنا آج کی نسل کے لیے کیا پیغام اور ذمہ داریاں رکھتا ہے؟
حورا یاسین: ہم سب سے پہلے مکتبِ کربلا سے تعلق رکھتے ہیں؛ وہ مکتب جس نے ہمیں قوت، ایمان، یقین، صبر اور استقامت عطا کی ہے۔
ہمارے فداکار خاندان آج کربلا کے اسباق کی عملی تفسیر ہیں۔ انہوں نے جان، مال اور اولاد کی قربانی دی ہے اور انہی مصائب پر صبر و استقامت کے ذریعے اس عظیم ورثے کو محفوظ رکھا ہے۔
ایکنا: لبنانی عوام نے حالیہ برسوں میں جنگوں اور معاشی مشکلات سمیت بے شمار چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ آپ کے نزدیک اس غیر معمولی صبر و استقامت کا راز کیا ہے؟
حورا یاسین: خداوندِ متعال پر ایمان اور اس کی مشیت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بعد ہماری ثابت قدمی کا اصل راز مکتبِ امام حسینؑ میں پوشیدہ ہے۔

شہید کرکی اور خاتون کا شوہر شہید باقر
اسی طرح ان شخصیات کا کردار بھی اہم ہے جنہوں نے مزاحمت کے ماحول میں ہماری تربیت کی۔ میری مراد شہید سید حسن نصراللہ ہیں، جو ہمارے لیے بہترین رہنما، مددگار اور پشت پناہ تھے، اور ان کے وہ رفقاء بھی جو اس فداکار قوم کے وفادار فرزند ہیں۔
ہم ایک ایسے درخت کی مانند ہیں جس کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے پیوست ہیں اور شاخیں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں، جبکہ ہمارے شہداء عزت و سربلندی کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔/
4359522