ایکنا نیوز- الخلیج آن لائن نیوز کے مطابق خلیجی ممالک میں مساجد اب صرف عبادت گاہیں نہیں رہیں بلکہ بتدریج سبز تبدیلی (Green Transformation) کی عملی علامت بنتی جا رہی ہیں۔ یہ مساجد ماحولیاتی تحفظ کے تصور کو محض نعروں سے نکال کر روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی عکاسی کرتی ہیں۔
حالیہ برسوں میں ان ممالک کی حکومتوں نے ماحول دوست عمارتوں کے تصور کو عبادت گاہوں تک وسعت دی ہے تاکہ خصوصاً رمضان المبارک اور دیگر اوقاتِ عروج میں توانائی اور پانی کے زیادہ استعمال کو کم کیا جا سکے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ان قومی وژنز کا حصہ ہے جن کا مقصد معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، کاربن اخراج کم کرنا اور ماحول کے تحفظ کو فروغ دینا ہے۔
مختلف اقدامات کے نتیجے میں اسمارٹ اور گرین مساجد ایسے نمونوں کے طور پر سامنے آئی ہیں جو جدید ٹیکنالوجی اور روحانی اقدار کو یکجا کرتی ہیں اور مذہبی ماحول میں انسان اور فطرت کے تعلق کو نئے انداز میں پیش کرتی ہیں۔
اگرچہ خلیجی ممالک میں اس رجحان کی شکل مختلف ہے، تاہم سب کا مشترکہ مقصد ایک ہی ہے: مساجد کو قدرتی وسائل پر بوجھ بنانے کے بجائے ماحولیاتی حل کا حصہ بنانا۔ یہ طرزِ عمل مذہب اور ماحولیاتی پائیداری کے امتزاج کی ایک عملی مثال ہے۔
کویت: 1700 مساجد کو گرین مسجد بنانے کا منصوبہ
کویت میں گرین مساجد کا تصور ایک بڑے قومی منصوبے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ روزنامہ القبس کے مطابق جنوری 2025 میں ایک سرکاری ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا گیا جس کا ہدف تقریباً 1700 مساجد کو ماحول دوست اور پائیدار مساجد میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر مرحلہ تین سال پر محیط ہوگا، جبکہ اس کی تکمیل 2033 تک متوقع ہے۔
تقریباً 30 ملین کویتی دینار لاگت والے اس منصوبے کے اہم اہداف یہ ہیں:
بجلی اور پانی کے استعمال میں سالانہ 40 فیصد تک کمی۔
انتظامی اور دیکھ بھال کے اخراجات میں تقریباً 50 فیصد کمی۔
کاربن اخراج کا خاتمہ اور مساجد کے اندر فضائی معیار میں بہتری۔
پانی اور بجلی کے بلوں میں 5.2 ملین دینار سے زائد کی بچت۔
پائیدار تعمیرات کے شعبے میں قومی صلاحیتوں کی تربیت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا۔
قطر: کاربن فری مساجد کی جانب پیش رفت
قطر میں الوکرہ میونسپلٹی نے ’’الوکرہ زیرو کاربن‘‘ منصوبے کے تحت مساجد کو بھی شامل کر لیا ہے۔
جون 2025 میں وزارت اوقاف و اسلامی امور کے تعاون سے شہر کی ایک مسجد کو گرین مسجد میں تبدیل کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس کا مقصد نمازیوں کے آرام کو متاثر کیے بغیر کاربن اخراج میں کمی لانا ہے۔
یہ منصوبہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔ اس کے لیے شیخ حسن بن عبدالرحمن آل ثانی مسجد کو ابتدائی مرحلے کے پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر منتخب کیا گیا۔
یہ اقدام قطر نیشنل وژن 2030 کے مطابق ایک وسیع پانچ سالہ منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد مساجد کی عملی کارکردگی بہتر بنانا اور انہیں ماحول دوست شہری مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔
عمان: قابلِ تجدید توانائی کی جانب قدم
سلطنت عمان میں ’’گرین مسجد‘‘ پروگرام کے ذریعے مساجد میں سبز تبدیلی کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔
اس پروگرام کا مقصد سولر انرجی کے ذریعے مساجد کی بجلی کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ عمان میں 16 ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں۔
نومبر 2020 میں شروع ہونے والے ابتدائی تجرباتی مرحلے کے مثبت نتائج کے بعد تقریباً 5 ملین عمانی ریال کی سرمایہ کاری سے تین سال کے دوران 100 مساجد تک اس منصوبے کو وسعت دی گئی۔
اس ماڈل کے تحت مساجد فوری طور پر بجلی کے اخراجات میں بچت حاصل کرتی ہیں جبکہ سرمایہ کاری کی مدت مکمل ہونے کے بعد شمسی توانائی کے نظام کی ملکیت مسجد کو منتقل کر دی جاتی ہے۔
یہ منصوبہ عمان وژن 2040 کے اہداف کے مطابق ہے، جس کے تحت ملک اپنی توانائی کی تقریباً 30 فیصد ضروریات قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
سعودی عرب: صرف استعمال نہیں بلکہ توانائی کی پیداوار
سعودی عرب میں ’’گرین مساجد‘‘ کے منصوبے مختلف جہتوں میں جاری ہیں، جن میں مساجد کو شمسی توانائی سے چلانا، اطراف میں درخت لگانا اور آبپاشی کے لیے استعمال شدہ پانی کو دوبارہ کارآمد بنانا شامل ہے۔
وزارتِ اسلامی امور کے اہداف میں شامل ہیں:
بعض مساجد کو توانائی پیدا کرنے والی عمارتوں میں تبدیل کرنا۔
اضافی بجلی قومی گرڈ میں فراہم کرنا۔
ماحولیاتی رضاکارانہ سرگرمیوں میں عوامی شرکت کو فروغ دینا۔
مسجد، معاشرے اور ماحول کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانا۔
متحدہ عرب امارات: جدید طرزِ تعمیر کے نمونے
متحدہ عرب امارات میں گرین مساجد جدید اور منفرد طرزِ تعمیر کی صورت میں نمایاں ہیں۔
ان میں نمایاں مثالیں درج ذیل ہیں:
’’مسجد الاستدامہ‘‘، ابوظبی کی پہلی مسجد جسے LEED Platinum سرٹیفکیٹ حاصل ہوا۔
دبئی کی ’’خلیفہ التاجر مسجد‘‘، جو اسلامی دنیا کی پہلی ماحول دوست مسجد سمجھی جاتی ہے اور شمسی توانائی، وضو کے پانی کی ری سائیکلنگ اور جدید حرارتی انسولیشن سے مزین ہے۔
دبئی کی ’’الریان مسجد‘‘، جو دنیا کی پہلی مسجد ہے جسے گرین بلڈنگ کے لیے LEED Platinum سرٹیفکیٹ ملا۔ اس میں برقی گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشن اور توانائی بچانے والی اسمارٹ ٹیکنالوجیز نصب ہیں۔
شارجہ اور رأس الخیمہ میں بھی اسمارٹ مساجد کے منصوبے جاری ہیں جہاں کم توانائی خرچ کرنے والے کولنگ سسٹمز اور پانی و روشنی کو کنٹرول کرنے والے سینسر استعمال کیے جا رہے ہیں۔
عبادت اور ماحولیات کا امتزاج
خلیجی ممالک میں گرین مساجد کے یہ تجربات ایک خاموش مگر گہری تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں عبادت گاہوں کو ماحولیاتی تحفظ کے مرکز میں رکھا جا رہا ہے اور ماحول دوستی کو انسانی و روحانی اقدار سے جوڑا جا رہا ہے۔
جامع منصوبوں اور جدید نمونوں کے ذریعے خلیج کی مساجد ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں عبادت فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کی علامت بن جائے گی، نہ کہ اس کی تباہی کا سبب۔/
4359323