مسلمان طلبہ کے ساتویں بین الاقوامی قرآنی مقابلے قراءتِ تحقیق اور حفظِ کل کے شعبوں میں سیمی فائنل مرحلہ مکمل کرنے اور منتخب قراء و حفاظ کے تعین کے بعد اب اپنے حتمی مرحلے کی تیاری میں ہیں۔ اسی مناسبت سے مقابلوں کے سیکرٹری جلیل بیتمشعلی سے گفتگو کی گئی، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
ایکنا: سب سے پہلے اب تک مقابلوں کے انعقاد کے مراحل کے بارے میں بتائیے۔
جلیل بیتمشعلی نے کہا کہ قرآن کریم کے میدان میں جهادِ دانشگاہی (جہاد یونیورسٹی) کی ایک نہایت اہم اور انقلابی کاوش مسلمانوں کے بین الاقوامی قرآنی طلبہ مقابلوں کا انعقاد ہے۔ ساتویں دور کے انتظامی امور ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہیں۔ حالیہ واقعات، بارہ روزہ جنگ اور جنگِ رمضان کے باعث بعض مراحل میں رکاوٹیں ضرور آئیں، لیکن ہم نے پوری کوشش کی کہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق کام جاری رہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں 76 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سیمی فائنل مرحلے کے اختتام پر شعبۂ قراءتِ تحقیق میں 25 امیدوار فائنل کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ اسی طرح قرآنی ٹیکنالوجی اور عوامی قرآنی مصنوعات کے شعبے میں موصول ہونے والے 45 منصوبوں میں سے ججز کے جائزے کے بعد 10 بہترین منصوبے فائنل مرحلے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ حفظِ کل کے شعبے میں 26 حفاظ نے سیمی فائنل میں شرکت کی، جبکہ فائنل کے لیے منتخب حفاظ کے نام جلد جاری کیے جائیں گے۔
ایکنا: کیا آپ فائنل مرحلہ حضوری شکل میں منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
اگر حالات سازگار رہے تو فائنل مرحلہ حضوری طور پر منعقد کیا جائے گا، بصورتِ دیگر بعض قرآنی اداروں اور بالخصوص سرکاری نشریاتی ادارے (صدا و سیما) کے تعاون سے ایک نیا آن لائن طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا۔ اس صورت میں تقریباً ایک ہفتے پر مشتمل خصوصی قرآنی پروگرام کے قالب میں مقابلے منعقد ہوں گے۔
ایکنا: ساتویں دور میں ایک نئے شعبے کا اضافہ بھی کیا گیا ہے، اس بارے میں کچھ بتائیے۔
گزشتہ چھ ادوار میں صرف قراتِ تحقیق اور حفظِ کل کے مقابلے منعقد ہوتے تھے، لیکن اس مرتبہ طلبہ کی علمی اور تخلیقی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’قرآنی ٹیکنالوجی اور عوامی قرآنی مصنوعات‘‘ کے نام سے ایک نیا شعبہ شامل کیا گیا ہے، جو طلبہ کی فکری اور علمی صلاحیتوں سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ اس شعبے میں موصول ہونے والے 45 منصوبوں میں سے 10 بہترین منصوبے فائنل مرحلے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔
ایکنا: ججز کے تبصروں سے معلوم ہوا کہ بہت سے شرکاء مقابلے کے ضوابط سے مکمل آگاہ نہیں تھے۔ کیا اس حوالے سے کوئی انتظام کیا گیا ہے؟
بیتمشعلی نے جواب دیا کہ مقابلوں کے آغاز سے قبل ضابطۂ کار کو انگریزی، فارسی اور عربی زبانوں میں مقابلوں کے تمام ابلاغی ذرائع اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا تھا تاکہ شرکاء اور منتظمین اس سے آگاہ ہو سکیں۔ اس کے باوجود اگر فائنل مرحلہ حضوری شکل میں منعقد ہوا تو وضاحتی نشستیں اور تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی، جبکہ آن لائن انعقاد کی صورت میں ضروری تعارفی اور تعلیمی مواد تیار کرکے مقابلوں سے قبل شرکاء تک پہنچایا جائے گا۔
ایکنا: یہ مقابلے شہید رہبر کی قرآنی شخصیت کو متعارف کرانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ آپ اس صلاحیت سے کیسے فائدہ اٹھائیں گے؟
انتہائی افسوس کے ساتھ امتِ مسلمہ نے اپنے عظیم قائد کو کھو دیا، جو قرآنِ کریم کے دفاع اور ترویج کے سب سے بڑے علمبرداروں میں سے تھے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کی بالخصوص قرآنی شخصیت اور خدمات کو متعارف کرانے کے لیے ہر ممکن موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقابلے اس مقصد کے لیے ایک نہایت مناسب پلیٹ فارم ہیں، اسی لیے ہم خصوصی نشستوں اور ورکشاپس کے ذریعے شہید رہبر کے قرآنی افکار اور خدمات کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فائنل مرحلے کو تقریباً ایک ہفتے پر محیط رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ضمنی علمی اور ثقافتی پروگراموں، خصوصاً ان نشستوں کے انعقاد کے لیے مناسب وقت میسر آ سکے، کیونکہ مقابلوں کا اصل مرحلہ بذاتِ خود زیادہ وقت نہیں لیتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ تقریباً دو ماہ سے خبر رساں ادارہ ایکنا ’’رائحہ‘‘ نامی اپنے مجلے کا ایک خصوصی شمارہ شہید امام خامنہایؒ کی قرآنی شخصیت کے موضوع پر تیار کر رہا ہے تاکہ انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کے اس اہم اور نسبتاً کم شناخته قرآنی پہلو کو بہتر انداز میں متعارف کرایا جا سکے۔/
4358919