آسٹریلین ایکٹویسٹ: اسلام فوبیا نادرست تصورات کا نتیجہ ہے

IQNA

آسٹریلین ایکٹویسٹ: اسلام فوبیا نادرست تصورات کا نتیجہ ہے

7:08 - June 22, 2026
خبر کا کوڈ: 3520352
ایکنا: اسلاموفوبیا کے خلاف آسٹریلیا کے خصوصی نمائندے نے سیاست دانوں اور مبصرین پر زور دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف عمومی اور منفی تصورات (اسٹیریو ٹائپس) پھیلانے سے گریز کریں۔

ایکنا نیوز- مسلم نیٹ ورک کے مطابق اسلاموفوبیا کے خلاف آسٹریلوی حکومت کے خصوصی نمائندے آفتاب ملک نے اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سینیٹر پالین ہینسن کے حالیہ بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا میں اسلام سے متعلق مباحث عموماً حقائق پر مبنی تجزیے کے بجائے غلط تعمیمات اور جذباتی بیانیے کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔

ہینسن نے آسٹریلیا میں اسلام کے بارے میں اپنے خدشات کے اظہار کے لیے برطانوی مصنف ایڈ حسین کی یادداشتوں کا حوالہ دیا تھا۔ آفتاب ملک نے کہا کہ اگرچہ اس نوعیت کے حوالہ جات عوامی مباحثے کا جائز حصہ ہیں، لیکن انہیں مجموعی طور پر مسلم معاشروں کے بارے میں حتمی نتائج اخذ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے استدلال کیا کہ اسلام کو چند انتہا پسندانہ واقعات کی بنیاد پر متعارف کرانا اس حقیقت کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے کہ آسٹریلیا کے مسلمان اپنی اکثریت میں تشدد اور انتہا پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ آفتاب ملک نے کہا: مسئلہ یہ ہے کہ جب آسٹریلیا میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو سب سے پہلے حقائق ہی قربان ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مباحثوں میں استعمال ہونے والی اصطلاحات، جیسے ’’ریڈیکل اسلام‘‘ یا مغربی معاشرے کے لیے خطرات کی بات، تجزیاتی دقت سے محروم ہوتی ہیں اور ایسے بیانیوں کو تقویت دیتی ہیں جو مسلمانوں کو بنیادی طور پر ایک سیکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

آفتاب ملک نے نشاندہی کی کہ عوامی رائے اکثر چند نادر واقعات پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کے باعث تشکیل پاتی ہے، جن میں بعض افراد اپنے اعمال کے لیے مذہبی جواز پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے افراد کو مجرم سمجھا جانا چاہیے اور ان کے رویے کو اسلام یا مسلم برادریوں کی نمائندگی قرار نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے میں سماجی اور ذاتی عوامل، جیسے تنہائی، محرومی اور ذاتی مسائل، اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان تمام عوامل کو صرف مذہبی شناخت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

آفتاب ملک کے مطابق آسٹریلیا کے مسلمان اب بھی امتیازی سلوک، زبانی توہین اور دشمنی کا سامنا کرتے ہیں، خصوصاً وہ خواتین جو مذہبی لباس پہنتی ہیں۔ انہوں نے مساجد اور اسلامی اداروں کے خلاف تخریب کاری اور دھمکیوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجربات بہت سے آسٹریلوی مسلمانوں کی ایک مستند اور تلخ حقیقت ہیں، اور انہیں نظر انداز کرنا مزید سماجی حاشیہ نشینی کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے اظہارِ رائے کی آزادی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شخصیات پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان اور بیانات کے اثرات کو مدنظر رکھیں، خاص طور پر جب ان کا اثر اقلیتی برادریوں پر پڑتا ہو۔

آفتاب ملک نے عوامی شخصیات اور مسلم برادریوں کے درمیان زیادہ رابطے اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں مساجد کے دورے اور عام آسٹریلوی مسلمانوں سے براہِ راست گفتگو بھی شامل ہے۔ ان کے بقول ایسے روابط غلط فہمیوں اور منفی تصورات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا: آسٹریلیا کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ آیا وہ انتہا پسندی یا قومی سلامتی کے موضوعات پر گفتگو کر سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ یہ بحث ایک پوری مذہبی برادری کو موردِ الزام ٹھہرائے بغیر کر سکتا ہے۔/

 

4359526

نظرات بینندگان
captcha