ایکنا خراسان رضوی کے مطابق، مشہد کے گورنر سید حسن حسینی نے پیر، کو مشہد ضلعی انتظامی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنگِ رمضان میں ایرانی قوم اور مسلح افواج کے مجاہدین کی بے مثال شجاعت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے ایک ملک میں منعقد ہونے والے ایک اجتماع میں شرکاء ایرانی قوم کے عظیم کارنامے سے بے حد متاثر اور خوش تھے۔ اب امریکہ بھی شکست کے بعد مذاکرات کی درخواست کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
حسینی نے مزید کہا کہ رہبرِ معظمِ انقلاب نے نہایت دانشمندی کے ساتھ امور کو آگے بڑھایا اور مذاکرات کی اجازت دی۔
مشہد کے گورنر نے کہا کہ ہم ایک عظیم اور تاریخ ساز واقعے، یعنی رہبرِ شہید کے جنازے کے قریب ہیں۔ ایران کی تاریخ میں بہت سے اہم سیاسی، ثقافتی اور تاریخی واقعات کی بنیاد مشہد شہر سے جڑی رہی ہے۔ یہ واقعہ بھی مشہد کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے بہترین انداز میں منعقد کرنے کے لیے تعاون کریں۔ خوش قسمتی سے مشہد کے پاس وسیع سہولیات اور صلاحیتیں موجود ہیں اور ہمیں اس تقریب کے زائرین اور مہمانوں کی بہترین میزبانی کرنی چاہیے۔ ان مہمانوں کی آمد شہر کے لیے باعثِ برکت ہے اور اس وقت شہر کے 80 فیصد ہوٹلوں کی گنجائش بھر چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ شہید کے جسدِ خاکی کی مشہد آمد شہر کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہوگی۔ جنازے کے راستے کو مناسب انداز میں تیار کیا جائے گا اور ہماری پیش گوئی کے مطابق تقریبِ تشییع میں ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد شرکت کریں گے۔ تمام اداروں کو سپاہِ ولی امر اور سپاہِ امام رضاؑ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ یہ تقریب بہترین انداز میں منعقد ہو سکے۔ ضلعی انتظامیہ اس تقریب کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے اور عوام کی پذیرائی کے لیے بڑی مقدار میں ضروری سامان مہیا کیا گیا ہے۔
حسینی نے زائرین کی رہائش کے حوالے سے بتایا کہ اب تک پندرہ لاکھ افراد کے قیام کے لیے مقامات تیار کیے جا چکے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس گنجائش میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہماری پیش گوئی ہے کہ جنازے کی تقریب میں شرکت کرنے والے زائرین اور مہمان ایک ہفتے تک مشہد میں قیام کریں گے۔ اس سے قبل مشہد شہر نے اس حجم کی آبادی کی میزبانی نہیں کی، اس لیے ہمیں کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا اور غافل نہیں ہونا چاہیے۔/
4359860