ایکنا نیوز- عربی 21 کے مطابق، مزراوی نے 2026 کے ورلڈ کپ کے بعد فٹبال کو خیرباد کہنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا اور کھیلوں کے حلقوں میں ان کے بیان پر وسیع ردِعمل سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی زندگی قرآنِ کریم کی حفظ، اس کے فہم اور دینی خدمت کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔ مزراوی نے یہ بات مراکش کی قومی ٹیم کے ساتھ 2026 کے عالمی کپ میں شرکت کے دوران کہی، جو امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہو رہا ہے۔
ہسپانوی اخبار "آس" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: ممکن ہے کہ میں ورلڈ کپ کے بعد فٹبال سے کنارہ کش ہو جاؤں۔ زندگی مختصر ہے۔ میں قرآنِ کریم حفظ کرنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ ایک دن مسجد میں امامِ جماعت بنوں۔
مزراوی اس سے قبل بھی جرمن کلب Bayern Munich میں اپنے دور کے دوران قرآن حفظ کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ نماز کے دوران انہیں احساس ہوا کہ وہ صرف چند مختصر سورتیں ہی یاد رکھتے ہیں، جس کے بعد انہوں نے قرآن حفظ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ایوب نامی ایک استاد کی رہنمائی حاصل کی، جو انہیں قرآنِ کریم کے حفظ، تجوید، معانی کے فہم اور روزمرہ زندگی میں قرآن کو شامل کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
مزراوی نے اپنی سابقہ گفتگو میں کہا تھا: ان شاء اللہ میرا ہدف یہ ہے کہ میں حافظِ قرآن بنوں، اس کے معانی کو سمجھوں اور قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤں۔ میں اس روحانی تجربے کو اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ بھی بانٹنا چاہتا ہوں، اور آخرکار میری آرزو ہے کہ میں امامِ جماعت بنوں۔
مراکشی فٹبالر کا یہ عزم کھیل کے میدان سے آگے بڑھ کر دین، علمِ قرآن اور سماجی خدمت سے وابستگی کی ایک قابلِ قدر مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔/
4359774