گيارہ ستمبر اور بش انتظامیہ كی مجرمانہ ذہنيت ۔

IQNA

گيارہ ستمبر اور بش انتظامیہ كی مجرمانہ ذہنيت ۔

9:30 - September 18, 2006
خبر کا کوڈ: 1497631
گيارہ ستمبر كو پانچ سال پورے ہونے پر تقريبا" نصف امريكيوں نے اعلان كيا ہے كہ اتنے بڑے دہشت گردانہ واقعے كے اصلی ذمے دار جارج بش ہیں ۔
گيارہ ستمبر كو پانچ سال پورے ہونے پر تقريبا" نصف امريكيوں نے اعلان كيا ہے كہ اتنے بڑے دہشت گردانہ واقعے كے اصلی ذمے دار جارج بش ہیں سی اين اين ٹی وی نے ايك سروے كے بعداعلان كيا ہے كہ پينتاليس فی صد امريكی عوام كا خيال ہے كہ گيارہ ستمبر دو ہزار ايك كا واقعہ رونما ہونے كے موجب بش ہیں ، سن دوہزار دو میں اسی جيسے ايك سروے میں صرف بتيس فی صد لوگوں نے اس واقعے كی ذمے داری بش حكومت پر ڈالی تھی ، گذشتہ چار برسوں میں گيارہ ستمبر كے واقعے كا ذمے دار بش حكومت كو قرار دينے والوں كی تعداد میں اٹھارہ فی صد اضافہ ہوا ہے سياسی تجزیہ نگاروں كا خيال ہے كہ چند وجوہات كی بنا پر امريكی عوام گيارہ ستمبر كے واقعے میں بش حكومت كو مقصر سمجھتے ہیں ، اول یہ كہ جس وقت گيارہ ستمبر كا واقعہ رونما ہوا اس زمانے میں مجریہ اور فوج كے سربراہ بش تھے اور اس بنا پر آئين كے مطابق امريكی شہريوں كی سيكورٹی كی ذمے داری ملك كے صدر پر ہوتی ہے ، دوسرے یہ كہ بش اور امريكہ كے سيكورٹی و خفیہ ادارے كے اعلیٰ حكام اور بش نے گيارہ ستمبر كا واقعہ رونما ہونے سے قبل سيكورٹی انتباہات پر توجہ نہیں دی ، اب تك اس سلسلے میں متعدد شواہد اور ثبوت سامنے آچكے ہیں كہ وھائٹ ہاؤس كے حكام نے سيكورٹی انتباہات پر كوئی توجہ نہیں دی ہے ۔كم از كم ايك واقعہ ثابت ہوچكا ہے كہ بش نے نيويارك اورواشنگٹن پر حملوں سے ايك روز پہلے ،گيارہ ستمبر كو طيارہ اغوا كرنے والوں كے بعض عناصر كی ٹيلی فونك گفتگو سنی تھی ، اس مكالمے میں واضح طور پر كہا گيا تھا كہ امريكہ پر آئندہ دنوں میں ايك خودكش حملہ ہوگا ، ليكن وھائٹ ہاؤس نے اس پر كوئی توجہ نہیں دی امريكی حكومت كے بعض ناقدين كا خيال ہے كہ بش اوراس كے مشيروں نے جان بوجھ كر ان انتباہات پر توجہ نہیں دی تاكہ ايك بڑے دہشت گردانہ حملے كے بعد امريكہ كے اندر اور باہر اپنے پيش نظر سيكورٹی و فوجی اقدامات پرعمل كرسكیں ، گيارہ ستمبر كے بعد رونما ہونے والے واقعات سے پتہ چلتا ہے كہ نيوكنزرویٹيو نے اس واقعے سےكس حدتك سياسی فائدہ اٹھايا اور دنيا پراپنا مكمل تسلط قائم كرنے كےلئے حملے كے لئے قدم اٹھايا اس وقت امريكی عوام كی اكثريت میں یہ احساس پيدا ہوگيا ہے كہ امريكہ كی خطرناك خارجہ پاليسی كی وجہ سے ہی انتہا پسند گروہ اس ملك پر حملے كے لئے مائل ہوئے ہیں ، اس گروہ كی نظر میں صیہونی حكومت كی بے چون و چرا حمايت ، دوسرے ملكوں كے داخلی امور میں روز افزون مداخلت ، باربار لشكر كشی اورابوغريب و گوانتانامو سميت انسانی حقوق كے اصولوں كی كھلی خلاف ورزياں امريكہ سے دشمنی كا بنيادی سبب شمار ہوتی ہیں اس بنا پر امريكی حكومت ، رائے عامہ كی جانب سے گيارہ ستمبر كے واقعات كی حقيقی ذمے دار قراردی جارہی ہے ،اور اس بيچ بل كلنٹن حكومت اور بش حكومت میں كچھ زيادہ فرق نہیں ہے ۔




نظرات بینندگان
captcha