ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی(ايكنا)اور تہران ریڈيو كے مطابق جرمنی اور سلامتی كونسل كے مستقل ركن ممالك كے وزرائے خارجہ كا لندن اجلاس ،ايران كے ایٹمی معاملے میں فيصلہ كرنے كے طريقہ كار كے بارے میں بڑی طاقتوں كے درميان اختلاف كی واضح علامت ہے لندن اجلاس میں شركت كرنے والوں نے اگر چہ گفتگو كے ذريعے ايران كے ایٹمی معاملے كے حل كے لئے ڈپلومیٹك راہ حل كی كوشش پر تاكيد كی ليكن ان كے درميان گہرا اختلاف رائے كسی اتفاق رائے تك پہونچنے میں مانع رہا ہے ،مذكورہ اجلاس میں يورپی يونين كی خارجہ پاليسی كےسربراہ خاوير سولانا نے ايران كی اعلیٰ قومی سلامتی كونسل كے سكریٹری علی لاريجانی كے ساتھ اپنے مذاكرات كی رپورٹ پيش كی شركت كرنے والوں نے اپنے مختلف اور متضاد بيانات میں ايران كے ایٹمی معاملے میں اس پر پابندی لگانے اور مذاكرات جاری ركھنے جيسے مختلف خيالات پيش كئے ، روس اور چين نے ايران كے خلاف ہر قسم كی پابندی عائد كرنے كی مخالفت كی ، اور ايران كا ایٹمی معاملہ حل كرنے كی موثر ترين روش مذاكرات كو قرارديا ۔اس كے مقابلے میں امريكہ اور برطانیہ نے سلامتی كونسل كے ذريعے ايران پر پابندی عائد كرنےكے اپنے دشمنانہ موقف پر تاكيد كی ،اس بيچ فرانس اور جرمنی كا خيال ہےكہ مذاكرات كے لئے مزيد وقت دركار ہے ، ليكن فرانس نے اس كے ساتھ ہی ايران پر تدريجی پابندی عائد كرنے كا مطالبہ بھی كيا ہے ۔جرمنی بھی امريكہ كی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ايران كے خلاف جديد قرارداد كا مسودہ مرتب كررہا ہے اورخاوير سولانا ايران كے ساتھ ایٹمی مذاكرات جاری ركھنے پر اصرار كررہے ہیں اس صورت حال میں اسلامی جمہوریۂ ايران ایٹمی ايندھن كی پيداوار اور غير فوجی و تحقيقی مقاصد كے لئے يورينيم كی افزودگی كو ايرانی عوام كا ناقابل انكار اور مسلّمہ حق سمجھتا ہے اور يورينيم كی افزودگی روكنے كے لئے امريكہ كی زبردستی كی درخواست كو مسترد كرتے ہوئے پرامن راہ حل تك پہونچنے كے لئے مذاكرات جاری ركھنے پر تاكيد كرتا ہے ۔حقيقت یہ ہے كہ سلامتی كونسل كے مستقل اراكين كے درميان اختلافی اور پيچيدہ حالات وھائٹ ہاؤس كے دشمنانہ اورغير اصولی رویے كی وجہ سے پيدا ہوئے ہیں ۔امريكی حكام بين الاقوامی قوانين كو نظر انداز كرتے ہوئے یہ كوشش كررہے ہیں كہ ايران كو اس كے اصلی راستے سے موڑ دیں جبكہ عالمی برادری كی اكثريت ايران كے ایٹمی معاملے كو ڈپلومیٹك طريقے سے حل كرنے كی ضرورت پر تاكيد كرتے ہوئے پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سےاستفادے كا ايران كا حق ديتے جانے كی خواہاں ہے ۔ سلامتی كونسل كے مستقل اراكين كے درميان اختلاف نظر اس وجہ سے ہے كہ ايران میں يورينيم كی افزودگی روكنے كی مغرب كی كوشش اين پی ٹی كی كھلی خلاف ورزی ہے اور اگر بڑی طاقتیں سلامتی كونسل كو آلہ كار بناكر اين پی ٹی كے قوانين كی خلاف ورزی كی كوشش كریں گی تو انہیں بين الاقوامی ميدان میں سنگين چيلنجوں كا سامنا كرنا پڑے گا ۔جبكہ ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادے كے ايران كے مسلّمہ حق كو تسليم كرنے سے وہ نہ صرف اس بحران سے رہائی حاصل كرلیں گے جو خود انہوں نے پيدا كيا ہے بلكہ اين پی ٹی معاہدے پر عمل درآمد میں بھی مدد كریں گے ۔(7 اكتوبر 2006)