پاكستان میں مدرسے پر فوج كی بمباری، ’80 افراد ہلاك‘

IQNA

پاكستان میں مدرسے پر فوج كی بمباری، ’80 افراد ہلاك‘

10:56 - October 31, 2006
خبر کا کوڈ: 1505598
بين الاقوامی گروپ :پاكستان كے قبائلی علاقے باجوڑ ايجنسی میں فوج نے سوموار كی صبح بمباری كر كے ايك مدرسے كو تباہ كرديا اور اس كارروائی میں ۸۰ افراد ہلاك ہوئے ہیں۔















ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نےبی بی سی اردو سے نقل كيا ہے كہ پاكستان میں فوجی حكام كا كہنا ہے كہ مدرسہ شدت پسندوں كا ايك تربيتی مركز تھا جس میں غيرملكی بھی موجود تھے جبكہ مقامی قبائلی اس سے انكار كرتے ہیں۔ مقامی قبائلی رہنماوں نے اس سركاری دعوے كی بھی ترديد كی ہے كہ مدرسے میں عسكری تربيت دی جا رہی تھی يا اس میں غيرملكی موجود تھے۔

اس واقعے پر احتجاج كرتے ہوئے صوبہ سرحد كے سينر وزير سراج الحق نے وزارت سے جبكہ باجوڑ سے رُكن قومی اسمبلی ہارون رشيد نے اسمبلی كی ركنيت سے مستعفی ہونے كا اعلان كيا ہے۔

واقعے كے بعد باجوڑ انتظامیہ نے ايك مرتبہ پھر صحافيوں كے علاقے میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

مذہبی جماعتوں نے حكومتی كارروائی كے خلاف منگل كو يومِ احتجاج منانے كا اعلان كيا ہے۔ پير كو جماعتِ اسلامی اور كچھ ديگر مذہبی جماعتوں كے كاركنوں نے كراچی اور پشاور میں مظاہرے كیے۔


لوگوں نے صحافيوں كو بتايا كہ حملے كے بعد انسانی جسم كے ٹكڑے ہر طرف پھيل گئے

باجوڑ كے عوام پير كو مقامی عسكريت پسندوں اور حكومت كے درميان امن معاہدے پر كسی پيش رفت كی توقع كر رہے تھے جس كی اميد اب تقريباً معدوم ہو گئی ہے۔

افواج پاكستان كے ترجمان ميجر جنرل شوكت سلطان كے بقول فوج نے كئی روز سے مولوی لياقت كے مدرسے پر نظر ركھی ہوئی تھی اور ان اطلاعات كی تصديق پر كہ مدرسے كو شدت پسند كارروائيوں كی تربيت كے ليئے استعمال كيا جا رہا ہے فوج نے صبح پانچ بجے یہ كارروائی كی۔ شوكت سلطان كا كہنا تھا كہ فوج كے پاس ’ٹھوس شواہد‘ تھے كہ مدرسے میں ’شدت پسند‘ موجود ہیں جن پر عمل كرتے ہوئے فوج نے كارروائی كی۔

ضياالعلوم تعليم القران نامی یہ مدرسے دس برس قبل قائم كيا گيا تھا۔ یہ مدرسہ باجوڑ كے صدر مقام خار سے تقريبا آٹھ كلومیٹر شمال میں ’چينہ گئی‘ كے مقام پر واقع ہے۔ یہ جگہ گزشتہ جنوری میں امريكی بمباری كا نشانہ بنے والے ڈمہ ڈولہ گاؤں اور افغان سرحد كے قريب ہے۔ بمباری اتنی شديد تھی كہ اس سے مدرسے كی ايك ہی ديوار ہی گرنے سے بچ پائی ہے۔


حملہ
اچانك دو طيارے آج صبح فضا میں نمودار ہوئے اور مولانا لياقت كے نام سے مشہور مدرسے پر بمباری شروع كردی۔ علاقے كے لوگوں كا كہنا ہے كہ طياروں نے تين بار مدرسے كو نشانہ بنايا اور یہ حملے اتنے شديد تھے كہ اس كی آوازیں كئی كلومیٹر تك سنی گئی۔


عينی شاہدين

فوجی حكام كے مطابق گن شپ ہيلی كاپٹروں اور ہدف پر مار كرنے والے ہتھياروں سے مدرسہ پر بمباری ہوئی جس سے اس كی عمارت مكمل طور پر تباہ ہوگئی۔

حملے میں مدرسے میں موجود تراسی میں سے اسی افراد ہلاك جبكہ تين زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاك ہونے والوں كی عمریں بيس سے تيس برس كے درميان بتائی جاتی ہے۔ مدرسے كے منتظم اور كالعدم تنظيم تحريك نفاذ شريعت محمدی كے نائب امير چاليس سالہ مولوی لياقت اور ان كے تين بیٹے بھی ہلاك ہونے والوں میں شامل ہیں۔

عينی شاہدين نے بتايا كہ بمباری سے مدرسہ طلبہ كے اعضاء دور دور تك بكھر گئے جبكہ اكثر كی لاشیں بھی بری طرح مسخ ہوگئیں۔ بمباری كی اطلاع پر ہزاروں كی تعداد میں مقامی لوگ وہاں جمع ہوئے اور لاشوں كو اكھٹا كيا۔ البتہ چند لاشوں كی حالت ايسی تھی كہ انہیں صرف بوريوں میں ہی بند كيا جا سكتا تھا۔

سينر صوبائی وزير سراج الحق جن كا آبائی علاقے دير قريب ہی ہے اپنی سركاری گاڑی وہیں چھوڑ كر موٹر سائيكل پر مدرسے پہنچے۔ انہوں نے ہی ہلاك ہونے والوں كی اجتماعی نماز جنازہ پڑھائی اور بعد میں وزارت سے مستعفی ہونے كا اعلان كيا۔ باجوڑ سے جماعت اسلامی كے ركن قومی اسمبلی ہارون رشيد نے بھی اس موقع پر ايوان سے مستعفی ہونے كا اعلان كيا۔


شوكت سلطان كے مطابق مرنے والوں میں كوئی ’اہم غيرملكی شخصيت‘ نہیں ہے

تاہم جماعت اسلامی كے سربراہ قاضی حسين احمد نے اسلام آباد میں صحافيوں سے بات چيت میں مستعفی ہونے كے فيصلے كی اہميت قدرے كم كر دی۔ انہوں نے بتايا كہ سراج الحق سے پارٹی نے گزشتہ دنوں سركاری يا پارٹی عہدے میں سے ايك ركھنے كا تقاضا كيا تھا۔ سراج الحق جماعت اسلامی كے صوبائی امير بھی ہیں۔ اس كے جواب میں سراج الحق نے مناسب وقت پر وزارت سے استعفی كے اعلان كا وعدہ كيا تھا۔

ہارون رشيد كے بارے میں انہوں نے بتايا كہ انہوں نے اپنا استعفی قومی اسمبلی كو نہیں بلكہ انہیں بھيجا ہے۔

مدرسے پر بمباری كے بعد حكومت كو مطلوب مولانا فقير محمد بھی وہاں موجود تھے۔ ان كے علاوہ بڑی تعداد میں مسلح نقاب پوش عسكريت پسند بھی جنازے میں موجود تھے۔

حكومت كو القاعدہ كی مدد كے الزام میں مطلوب قبائلی عسكريت پسند مولانا فقير محمد بھی بمباری كے بعد وہاں پہنچے اور لوگوں سے خطاب میں كہا كہ كفار انہیں اس طرح ختم كرنا چاہتے ہیں ليكن وہ اس میں كامياب نہیں ہوسكیں گے۔ انہوں نے پوچھا كہ كيا كسی كو مدرسے میں كوئی ہتھيار يا عسكری سامان دكھائی ديتا ہے؟

اس واقعے پر احتجاج كرتے ہوئے آج صدر مقام خار كے بازار بند رہے اور مشتعل افراد نے مظاہرے كئے۔ باجوڑ میں اس واقعے كے بعد حالات كشيدہ ہیں۔ حكومت نے بھی سكيورٹی فورسز كو الرٹ رہنے كا حكم ديا ہے۔

باجوڑ انتظامیہ نے آج ايك مرتبہ پھر بی بی سی سميت كئی ديگر اخبارات كے صحافيوں كو باجوڑ داخل نہیں ہونے ديا۔ اس فيصلے كی كوئی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم ماضی میں بھی حكام یہ اقدام اٹھاتے رہے ہیں۔


دكھ كی بات
مدرسے میں حملے كے وقت 80 طالب علم موجود تھے جنہوں نے عيد كی چھٹيوں كے بعد تعليم كا دوبارہ آغاز كيا تھا۔ موقع پر موجود لوگوں نے صحافيوں كو بتايا كہ حملے كے بعد انسانی جسم كے ٹكڑے ہر طرف پھيلے ہوئے ہیں۔ ہم نے جو كچھ ديكھا اس سے ہمیں دكھ ہوا ہے


عينی شاہد

پولیٹكل ايجنٹ باجوڑ فہيم وزير نے بی بی سی سے بات كرتے ہوئے اس فيصلے كی وجہ ذرائع ابلاغ كا لوگوں كو مشتعل كرنا بتائی تھی۔ البتہ صحافيوں كی دور ركھنے كی پاليسی كوئی زيادہ كامياب نہیں رہی ہے۔

یہ كارروائی ايك ايسے وقت كی گئی ہے جب باجوڑ میں حكومت اور مقامی قبائل كے درميان شمالی وزيرستان طرز كے امن معاہدے كی باتیں ہو رہی تھیں۔ اس بابت مقامی قبائلی رہنماوں اور حكومت كے درميان معاہدے كو حتمی شكل دينے كے ليئے مذاكرات متوقع تھے۔

دو روز قبل مقامی شدت پسندوں نے باجوڑ میں ايك بڑے مظاہرے میں اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر كی حمايت كا اعلان كيا تھا۔ تاہم مقامی شدت پسندوں كے رہنما مولانا محمد فقير نے حكومت كو امن عامہ كی بحالی كے ليئے تعاون كی پيشكش بھی كرائی تھی۔

اس مظاہرے سے ہلاك ہونے والے مولوی محمد لياقت نے بھی خطاب كيا تھا۔

اس سال جنوری میں باجوڑ كے ڈمہ ڈولہ گاوں پر امريكی بمباری سے تيرا افراد ہلاك ہوئے تھے۔ یہ حملہ القاعدہ كے رہنما ايمن الظواہری كی موجودگی كی اطلاع پر كيا تھا تاہم وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

شايد یہی وجہ ہے كہ آج كے حملے كے بارے میں بھی قبائليوں كو شك ہے كہ یہ سرحد پار افغانستان سے امريكی افواج نے كيا ہے تاہم پاكستانی حكام اس كی ترديد كرتے ہیں۔

مدرسے كے قريب رہائشی اخوندزادہ نے بتايا كہ وہ گزشتہ چند روز سے علاقے میں جاسوسی كرنے والے طياروں كی پروازیں ديكھ رہے تھے۔ ايك دوسرے عينی شاہد جاويد نے بتايا كہ حملے كے بعد گن شپ ہيلی كاپٹر فضا میں نمودار ہوئے تاہم ان كی جانب سے بمباری نہیں كی گئی۔ وہ كئی گھنٹوں تك فضا میں گھومتے رہے۔

جماعت اسلامی نے كل ملك بھی میں مزيد پرامن احتجاج كی كال دی ہے۔ تاہم اسلامی جمعت طلبہ نے آج پشاور پريس كلب كے سامنے باجوڑ كے واقعے كے حلاف احتجاج كيا۔ مظاہرين نے امريكہ اور صدر جنرل پرويز مشرف كے خلاف نعرہ بازی كی۔

جعميت علما اسلام كے باجوڑ سے سينٹر مولانا عبدالرشيد اور ركن قومی اسمبلی مولانا محمد صادق نے بھی كل احتجاج كی كال دی ہے۔



نظرات بینندگان
captcha