ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ۔ايكنا نے فرانسيسی روزنامہ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ آيت اللہ العظمی سيستانی كے نمايندہ شيخ احمد الصافی نے كربلا كے خطبہ جمعہ سے خطاب كر تے ہوئے كہا كہ عراقی عوام كے زخموں پر مرھم اسی وقت لگے گی جب صدام كو كربلا معلیٰ میں”بين الحرمين “تختہ دار پر لٹكايا جائےگا۔
امام جمعہ نے مزيد كہا كہ جن لوگوں كا یہ خيال ہے كہ صدام كی پھانسی سے ملك میں افراتفری پھيل جائے گی وہ اشتباہ كر رہے ہیں بلكہ یہ اقدام عراقی عوام كے حق میں بہتر ہے۔
ياد رہے كہ صدام كی پھانسی كی خبر سے شيعوں اور كردوں میں خوشی كی لہر دوڑ گئ تھی كيونكہ یہ كئی سالوں تك اس كے مظالم كی چكی میں پستے رہے ہیں ۔
البتہ بعضی عراقی سنيوں اور اسلامی ممالك كے سربراہوں نے اس كی مخالفت كی ہے مصری صدر حسنی مبارك نے كہا ہے كہ صدام كو پھانسی سے ملك میں انتشار بڑھ جائے گا۔