آپ كی وصيت كے مطابق آپ كو مرزا شيخ عبدالكريم حائری يزدی (حوزہ علمیہ قم كے بانی) كے پہلو میں سپرد خاك كيا جائے گا ـ
ياد رہے كہ آيت اللہ شيخ جواد تبريزی گزشتہ تين سال سے مريض تھے اور كچھ دن پہلے عارضہ قلب كی وجہ سے آپ كو كسری ھسپتال تھران میں داخل كيا گيا تھا اور تين ھفتے پہلے آپ كی شفاء كے لئے قم میں ايك مجلس دعا كا انعقاد بهی كيا گيا تھاـ صدر جمہوریہ ايران نے بھی ساسان ھسپتال میں آپ كی عيادت كی ـ
آيت اللہ العظمیٰ تبريزی كی زندگی پر ايك نظر
آيت اللہ العظمیٰ جواد تبريزی 1926 ء كو تبريز میں ايك مذھبی گھرانے میں پيدا ہوئے۔ ابتدائی تعليم كے بعد آپ 1327 ہجری شمسی كو حوزہ علمیہ قم میں تشريف لائے اور ابتدائی دروس سے فراغت كے بعد مرحوم آيت اللہ العظمیٰ حجت اور مرحوم آيت اللہ العظمیٰ بروجردی كے دروس خارج میں شركت كی اور ساتھ ہی ابتدائی مراحل كی كتابوں كی تدريس میں مشغول ہوگئے ـ
آيت اللہ العظمیٰ بروجردی كے نزديك آپ كا علمی مقام اس حد تك پہنچ گيا كہ آٰيت اللہ بروجردی نے آپ كو حوزہ علمیہ قم كا ممتحن قرار ديا۔ آيت العظمیٰ تبريزی پانچ سال كے بعد يعنی 1332 ہجری شمسی كو مزيد علمی پياس بجھانے كی خاطر نجف اشرف تشريف لے گئے اور اس زمانے كے نامور اساتيد بالخصوص مرحوم آيت اللہ العظمیٰ سيد عبد الھادی شيرازی (رحمۃ اللہ عليه) اور مرحوم آيت اللہ العظمیٰ خوئی (رحمۃ اللہ عليه) سے كسب فيض كياـ
آيت اللہ العظمیٰ جواد تبريزی كو آيت العظمیٰ خوئی كے مایہ ناز شاگردوں میں شمار كيا جاسكتا ہے اور آپ آيت اللہ العظمیٰ خوئی كی خاص توجہ كا مركز تھے ـ
آيت اللہ العظمیٰ حاج شيخ جواد تبريزی حوزہ علمیہ نجف اشرف میں 23 سال كا عرصہ گزارنے كے بعد بالآخر 1355 ھجری شمسی كو سيد الشھداء حسين بن علی علیہ السلام كی زيارت سے واپس پلٹتے ہوئے نجف كے راستے میں بعث پارٹی كے ہاتھوں گرفتار ہوئے جس كے بعد آپ كو ايران بھيج ديا گيا ۔ آپ قم تشريف لانے كے بعد دوبارہ اپنی علمی سرگرميوں میں مشغول هو گئے اورھزاروں تشنگان علم آپ كے علم سے سيراب ہوئے ـ