اھواز كے ادارہ ثقافت كے سربراہ جناب ناصر چنائی نے ايكنا سے خصوصی گفتگو كرتے ہوۓ كہا كہ اس ادارے كی كچھ قانونی اور شرعی ذمہ دارياں ہیں اور اب یہ ادارہ دو شعبوں فن و ثقافت میں قرآنی انداز اپنانا چاہتا ہے-
انہوں نے كہا كہ ميرے خيال میں صوبے میں معارف قرآنی بہتر طريقہ سے آشنا كراۓ جا رہے ہیں ليكن پھر بھی ان كا حق ادا نہیں ہو سكا ہے لہذا ہمیں مخصوص پروگرام مرتب كرنے ہوں گے انہوں نے مزيد كہا كہ قرآنی سرگرميوں كو صوبے میں عام كرنے كے لیے مختلف فنون سے استفادہ كيا جاسكتا ہے البتہ اس میں ركاوٹیں بھی ہیں مثلا صحيح پلاننگ كا فقدان اور قرآنی پروگرام منعقد كرنے والے افراد كا اس ادارے سے عدم ارتباط ،اھم ركاوٹیں ہیں –كيونكہ عام طور پر تصور كيا جاتا ہے كہ مذكورہ ادارہ صرف فن و آرٹ كی سرپرستی كرتا ہے-