ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا سے بات چيت كرتے ہوۓ فاطمہ قربانی نے كہا كہ سات سال كی عمر سے میں نے والدين كی حوصلہ افزائی كے ساتھ قرآن حفظ كرنا شروع كيا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اسكول بھی جاتی رہی-
۱۳ سالہ حافظہ قرآن نے كہا كہ ميری ثقافتی كاركردگی قرآن حكيم سے متعلق ہے اور تين سال سے میں مسلسل قرآنی مقابلوں میں شركت كر رہی ہوں
انہوں نے مزيد كہا كہ حفظ قرآن كرانے كے لیے ماہر اساتذہ كی تعداد بہت كم ہے-