ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے اسلام آن لائن كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ردا سيام كے ہاں ۱۸ ماہ قبل ايك فرزند پيدا ہوا تھا وہ اس كا نام جہاد رجسٹر كرانے كے لیے گيا تو رجسٹريشن عہدہ داروں نے یہ كہہ كر نام درج نہیں كيا كہ یہ دہشت گردی كے مترادف نام ہے سيام نے اس كی شكايت عدالت عالیہ میں كی اور فيصلہ اسی كےحق میں ہوا ليكن پھر بھی رجسٹريشن عہدہ دار بضد ہیں كہ عدالت اپنے فيصلے پر نظر ثانی كرے برلن كی پوليس كے عہدہ دار بھی اس نام پرمعترض ہیں اور ان كا كہنا ہے كہ یہ نام بچے كے لیے بھی مضر ثابت ہو سكتا ہے-
واضح رہے كہ جرمنی میں نوزائيدہ بچوں كے نام پر بڑی سختی كی جاتی ہے اور والدين صرف وہی نام ركھ سكتے ہیں جس كو حكومت پاس كرے-