ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق مصنف٬ اس كتاب میں فكر كی اجمالی تاريخ كے بارے میں اشارہ كرتے ہوۓ لكھتے ہیں كہ انسان نے دنيا میں قدم ركھنے كے بعد فكر كرنا شروع كيا اور اس نتيجہ تك پہنچا كہ واقعيت جيسے ہے ويسے ہی اس كا ادراك كيا جاۓ –لہذا صحيح اور غير صحيح میں امتياز حاصل كرنے كے لۓ معرفت شناسی كی ضرورت پيش آئی-
اور معرفت كے باب میں فلاسفر كے ذھن میں چند سوالات رونما ہوۓ
1. معرفت كا معيار كيا ہے؟
2. آيا معرفت ممكن ہے ؟
3. اگر ممكن ہے تو آيا اس وقت كوئی صاحب معرفت ہے ؟
4. معرفت كے منابع كيا ہیں؟
5. علم حاصل كرنے كا طريقہ كيا ہے ؟
6. معرفت كی حد كيا ہے ؟
ان تمام سوالوں كے جوابات مصنف نے تحليلی شكل میں پيش كۓ ہیں –اس كے علاوہ دوسرے اہم مطالب بھی كتاب میں موجود ہیں-