ايران كی قرآنی خبررساں ايجينسی (ايكنا) نے جنگ كے حوالے سے كھا ھے كه قائد حزب اختلاف اور جے يو آئی ( ف) كے مركزی امير مولانا فضل الرحمٰن نے كہا ہے كہ حكومت كا یہ تاثر بالكل غلط ہے كہ علماء كرام قومی يكجہتی میں ركاوٹ ہیں۔ موجودہ حكمران خود عوام كو تقسيم اور فرقوں كو لڑانے كی كوشش كر رہے ہیں۔ قوم كو اندھيرے میں دھكيلا جا رہا ہے اٹك ‘ بنوں اور ڈی آئی خان میں بم دھماكے سرحد حكومت كو ناكام بنانے كيلئے كرائے گئے۔ سرحد كے بعد پنجاب میں بھی اسلامی انقلاب لائیں گے۔ آئندہ اليكشن میں كسی بھی سياسی جماعت سے اتحاد ہو سكتا ہے كوئی بھی جمہوريت پسند پارٹی آمريت كا حصہ نہیں بن سكتی۔ وہ ہفتہ كے روز تونسہ شريف میں مفتی محمود كانفرنس سے خطاب كر رہے تھے۔مولانا فضل الرحمٰن نے كہا كہ موجودہ حكمران نجانے ملك كو كدھر لے جا رہے ہیں۔ قوم كو لسانی ‘ مذہبی اور قوميت كے گروپوں میں تقسيم كيا جا رہا ہے حكومت خود فساد كراتی ہے جبكہ الزام علمائے كرام پر لگا ديا جاتا ہے۔انہوں نے كہا كہ حقوق نسواں بل میں عورتوں كے حقوق كی كوئی بات شامل نہیں ہے۔ قومی اتفاق رائے نہ ہونے سے انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملكی صورتحال ابتر ہو رہی ہے جبكہ حكمران سب اچھا كہہ رہے ہیں۔ انہوں نے كہا كہ مسلمان كبھی انتہا پسند نہیں ہو سكتا۔ علمائے كرام رات كو رات اور دن كو دن ہی كہیں گے۔