ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق ھدايت آسمانی بلاگ گروپ نے ٫٫تكبيرة الاحرام كا معنی روايات كی روشنی میں ٬٬ كے عنوان سے لكھا ہے كہ جبرئيل پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوتے ہیں اور كہتے ہیں كہ خداوند عزو جل نے آپ كو فرمان ديا ہے كہ جب نماز میں داخل ہوں تو اپنے ہاتھوں كو اٹھالیں اور اسی طرح ركوع و سجود كے بعد ہاتھ بلند كر ليا كریں كيوں كہ فرشتوں كا عمل ايسا ہی ہے اور ہر چيز كی ايك زينت ہوتی ہے اور نماز كی زينت یہ ہے كہ تكبير كے وقت ہاتھوں كو بلند كيا جاۓ –
بلاگ گروپ نے مزيد لكھا ہے كہ امير المومنين علیہ السلام سے ايك شخص نے سوال كيا كہ ہاتھوں كو بلند كرنے كا كيا فلسفہ ہے ؟ آپ نے فرمايا كہ اس كا مطلب یہ ہے كہ خدا وحدہ لا شريك كی مانند كوئی چيز نہیں ہے اور اسے حواس سے درك نہیں كيا جا سكتا –