تكبيرة الاحرام كے معنی روايات كی روشنی میں

IQNA

تكبيرة الاحرام كے معنی روايات كی روشنی میں

11:12 - May 19, 2007
خبر کا کوڈ: 1546454
بلاگ گروپ : امام صادق علیہ السلام سے تكبيرة الاحرام كے انداز كے بارے میں روايت نقل ہوئی ہے آپ نے ہاتھوں كو بلند كر كے تكبيرة الاحرام كہنے كا انداز سمجھايا كہ تكبيرة الاحرام كہتے وقت ہتھيلی قبلہ كی طرف ہونی چاہیے –


ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق ھدايت آسمانی بلاگ گروپ نے ٫٫تكبيرة الاحرام كا معنی روايات كی روشنی میں ٬٬ كے عنوان سے لكھا ہے كہ جبرئيل پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوتے ہیں اور كہتے ہیں كہ خداوند عزو جل نے آپ كو فرمان ديا ہے كہ جب نماز میں داخل ہوں تو اپنے ہاتھوں كو اٹھالیں اور اسی طرح ركوع و سجود كے بعد ہاتھ بلند كر ليا كریں كيوں كہ فرشتوں كا عمل ايسا ہی ہے اور ہر چيز كی ايك زينت ہوتی ہے اور نماز كی زينت یہ ہے كہ تكبير كے وقت ہاتھوں كو بلند كيا جاۓ –
بلاگ گروپ نے مزيد لكھا ہے كہ امير المومنين علیہ السلام سے ايك شخص نے سوال كيا كہ ہاتھوں كو بلند كرنے كا كيا فلسفہ ہے ؟ آپ نے فرمايا كہ اس كا مطلب یہ ہے كہ خدا وحدہ لا شريك كی مانند كوئی چيز نہیں ہے اور اسے حواس سے درك نہیں كيا جا سكتا –
نظرات بینندگان
captcha