فخر الدين ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ادريس حلی سنہ ۵۴۳ ھ ق كو عراق كے شہر حلہ میں پيدا ہوۓ-ابن ادريس بچپن سے ہی قرآن اور دينی علوم كی تعليم حاصل كرنے میں مشغول ہوگۓاور جوانی میں ايك عظيم فقیہ اور مایہ ناز عالم دين بن گۓ –وہ معتقد تھے كہ صحيح راستے كے انتخاب كے لیے تفكر اور معرفت ہر انسان كی ذمه داری هے اور جو بھی اس نعمت يعنی (تفكر اور معرفت )سے استفادہ نہ كرے اس نےخداوند كی نعمتوں كا كفر كيا ہے۔ اسی وجہ سے ابن ادريس حلی كے ہم عصر اور متاخر علماء اور دانشوروں نے علمی شجاعت ،فقہ اسلامی كی پيشرفت اور آزاد تفكر كی طرف ترغيب دلانے كی وجہ سے ان كی تعريف كی ہے –شيخ طوسی كی وفات كے ايك سو سال بعد ،تمام فقہاء شيخ كے نظريات سے فيض حاصل كرتے تھے اور در حقيقت فقط ان كے نظريات كو بيان كرتے تھے .یہاں تك كہ كہا جاسكتا ہے كہ اجتہاد كا دروازہ تقريبا بند ہوگيا تھا –ان حالات میں ابن ادريس حلی نے اس تقليد سے نكل كر اجتھاد كو زندہ كيا-ابن ادريس كی چند گرانقدر تاليفات ہیں جن میں سے معروف ترين فقہ كی انوكھی كتاب ٫٫السراﺋر٬٬ ہے جس كی ارزش اور اھميت كئی صديوں كے بعد بھی باقی ہے. یہ كتاب فقہی اہميت كے علاوہ منتخب احاديث پر مشتمل ہونے كی وجہ سے حديث كے اعتبار سے بہت اہميت ركھتی ہے. اس عظيم مسلمان عالم دين نے آخر كار ۱۸ شوال سنہ ۵۹۸ ھ ق كو ۵۵ سال كی عمر میں وفات پائی-